خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں 23 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی فوج نےگذشتہ سال جون میں شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کیا تھا

پاکستان کی فوج نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب ہونے والی فضائی کارروائیوں میں کئی غیر ملکیوں سمیت 23 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے اتوار کو جاری ہونے والے ایک مختصر میں کہا گیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے دوران سکیورٹی فورس نے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحدی علاقوں میں فضائی حملے کئے ہیں۔

بیان کے مطابق ان حملوں میں غیر ملکیوں سمیت 23 شدت پسند مارے گئے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی میں کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحے کا ذخیرہ بھی تباہ کردیا گیا ہے۔ تاہم بیان میں مرنے والے افراد کی شناخت اور اُن کی قومیت ظاہر نہیں کی گئی ہے ۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال جون میں فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا جو بدستور جاری ہے۔ فوج کے مطابق آپریشن کے نتیجے میں اب تک ایجنسی کا 90 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔

تاہم سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان علاقوں میں فوج نے حال ہی میں زمینی حملوں کا آغاز بھی کیا ہے جبکہ اس دوران اس علاقے میں سکیورٹی فورسز پر بھی حملوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

گذشتہ سال دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے طالبان حملے کے بعد آپریشن ضرب عضب کا دائرہ کار ملک کے دیگر علاقوں تک پھیلا دیا گیا تھا جس کے بعد خیبر ایجنسی میں بھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی گئی۔

قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے دونوں قبائلی ایجنسیوں سے تقریباً 15 لاکھ کے قریب افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں جو بدستور پناہ گزین کیمپوں یا اپنے طورپر کرائے کے مکانات میں مقیم ہیں۔

متاثرین اپنے گھروں کو واپسی میں تاخیر کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے پناہ گزینوں کی واپسی کے ضمن میں کوئی قابل عمل اور جامع منصوبہ سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں