دو دن میں 261 لاوارث لاشیں دفن کیں: ایدھی فاؤنڈیشن

گرمی سے اموات تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زیادہ تر لاشیں گرمی کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تھیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایدھی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اُس نے حالیہ دنوں میں ڈھائی سو سے زیادہ لاوارث لاشیں دفن کی ہیں جن کی اکثریت گرمی کی شدت سے ہلاک ہونے والوں کی ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سینیئر اہلکار انور کاظمی نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ 24 جون سے 26 جون تک اُنہیں شہر کے مختلف علاقوں سے کُل 261 نامعلوم افراد کی لاشیں ملیں جن میں سے 70 سے 80 فیصد لاشیں گرمی کی شدت سے ہلاک ہونے والوں کی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان میں سے زیادہ تر لاشیں بہت خراب حالت میں تھیں جنھیں مواچھ گوٹھ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ایمبولینس سیکشن کے نگراں غلام حسین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ تیئس جون کی رات ہمارا سرد خانہ لاشوں سے بھر گیا تھا جس کے بعد ہم نے صرف لاوارث لاشوں کو سرد خانے میں رکھا اور انہیں تین دن تک دفناتے رہے جبکہ اس کے علاوہ ہم نے صرف غسل اور کفن کی حد تک سہولت فراہم کی۔

انھوں نے بتایا کہ لاوارث لاش کی فوٹو کھینچی جاتی ہے تاکہ اس کی مدد سے ورثا شناخت کرسکیں اور پھر اس کی قبر کا نمبر الاٹ ہوتا ہے جو ان کے پاس ریکارڈ میں محفوظ ہوتا ہے۔

’عام دنوں میں ہم شہر سے اوسطاً روزانہ دس بارہ لاوارث لاشیں اٹھاتے ہیں مگر تیئس جون کی رات شدید گرمی کی وجہ سے اموات کی یہ حالت تھی کہ کاؤنٹر پر لاشوں کی آمد کا سلسلہ رکنے میں ہی نہیں آرہا تھا۔‘

صوبہ سندھ میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شدید گرمی کی وجہ سے پچھلے ایک ہفتے کے دوران تیرہ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں صرف کراچی میں ساڑھے گیارہ سو سے زیادہ اموات ہوئیں۔

اتنی بڑی تعداد میں انسانی اموات اور متاثرہ افراد کے علاج و معالجے کی ناکافی سہولیات پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں تنقید کی زد میں ہیں۔ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت ان اموات کی ذمہ داری وفاقی حکومت اور کراچی میں بجلی کی فراہمی کے ذمہ دار نجی ادارے کے الیکٹرک پر عائد کر رہی ہے جو اس کے بقول بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے اور شہر میں بجلی کی ترسیل کے غیر معیاری نظام کو بہتر بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں گرمی سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے تین سو سے زیادہ امدادی مراکز قائم کیے گئے ہیں جن میں ڈیڑھ سو سے زیادہ مراکز کراچی میں کام کر رہے ہیں۔ صوبائی حکام کے مطابق ان مراکز میں تیرہ ہزار سے زیادہ افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت صوبہ سندھ میں گرمی کا زور ٹوٹ گیا ہے اور آنے والے دنوں میں شدید گرمی کے نئے سلسلے کا کوئی خطرہ نہیں۔

دوسری طرف وزیر اعظم محمد نواز شریف کا پیر کو کراچی کا طے شدہ دورہ ملتوی ہوگیا ہے جس کے دوران انھیں ہسپتال جا کر گرمی سے متاثرہ افراد کی عیادت کرنا تھی جبکہ ان کی پیپلز پارٹی کے چئرپرسن بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کا بھی امکان تھا۔

اسی بارے میں