شمالی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی بدھ سے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی کا سلسلہ اس سال 31 مارچ سے شروع ہوا تھا اور اب تک صرف دو ہزار خاندان واپس جا چکے ہیں۔آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں تقریباً دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوج آپریشن کے متاثرین کی واپسی کا دوسرا مرحلہ بدھ سے شروع ہو رہا ہے جس کے لیے عیدک کے علاقے کے تقریباً چار ہزار خاندان کی رجسٹریشن کی گئی ہے۔

قبائلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ متاثرین کی واپسی کا عمل تیز کیا جائے کیونکہ حالیہ گرمی میں خیموں اب مزید گزارہ ممکن نہیں رہا۔

میر علی تحصیل کے عیدک کے علاقے کے لوگ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد سب سے آخر میں اپنا علاقہ چھوڑ کر خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔ ان کی واپسی بدھ سے شروع ہو گی اور اس کے تحت روزانہ 100 خاندان واپس اپنے علاقے کو جائیں گے۔

عیدک کے تقریباً چار ہزار خاندانوں کی رجسٹریشن ہو چکی ہے جو اپنے علاقے کو واپس جانے کے لیے بے چین ہیں اور انفرادی طور پر ان کی تعداد 50 ہزار کے لگ بھگ بتائی گئی ہے۔

شمالی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی کا سلسلہ اس سال 31 مارچ سے شروع ہوا تھا اور اب تک صرف دو ہزار خاندان واپس جا پائے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں اب تک 90 فیصد علاقے شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے جبکہ بڑی تعداد میں شدت پسند مارے جا چکے ہیں

قبائلی رہنما ملک گل مرجان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے حکام سے ملاقات میں کہا ہے کہ واپسی کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے اگر صرف 100 خاندان روزانہ واپس جائیں گے تو دس لاکھ افراد کی واپسی میں سالوں لگ جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ عیدک قبائل کی واپسی پولیٹیکل انتظامیہ کے زیرِ انتظام ہو گی اس لیے انھوں نے انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ لوگ پریشان ہیں اور ان کے مسائل حل کیے جائیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے جانے والے لوگ کن مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور اب واپس جانے والوں سے وفاداری کا حلف لیا جانا کیا ثابت کرتا ہے کہ قبائل ملک کے ساتھ وفادار نہیں ہیں۔

ملک گل مرجان نے کہا کہ ان سے سب کچھ لیا جا چکا ہے اب ان کے پاس کوئی اسلحہ نہیں جس سے وہ اپنا یا کسی اور دفاع کریں یا اس لیے انھیں اپنی روایات کے مطابق وہاں رہنے دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان کے قبائل نے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں اس لیے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اور ان کی قربانیوں کو ضائع نہ کیا جائے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن گذشتہ سال جون میں شروع کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے متاثرین ان دنوں انتہائی کس مپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ متاثرین کی بڑی تعداد شدید گرمی میں خمیوں میں مقیم ہیں۔

قبائلی رہنما ملک غلام خان کے مطابق متاثرین کو اس وقت سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہیں ہے خواتیں ہوں یا مرد یا بچے سب گرمی سے پریشان ہیں، خیموں میں مقیم لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر مر رہے ہیں، ایسے حالات میں وہ کیسے گزارہ کر سکتے ہیں؟

فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں اب تک 90 فیصد علاقے شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے جبکہ بڑی تعداد میں شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں