بلوچستان میں تشدد کے واقعات میں پانچ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کئی برسوں سے خراب ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں تشدد کے تین مختلف واقعات میں تین آباد کاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

بدھ کو کوئٹہ میں تین افراد کی ہلاکت کا واقعہ عیسیٰ خان روڈ پر پیش آیا۔

انڈسٹریل پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سرکی روڈ سے متصل عیسیٰ خان روڈ پر تین افراد ایک ویلڈنگ کی دکان میں کام کر رہے تھے۔

اہلکار نے بتایا کہ دکان پر مسلح افراد آئے اور تینوں افراد کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔

اہلکار کے مطابق شدید زخمی ہونے کے باعث تینوں افراد ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔

ہلاک ہونے والے تینوں افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے اور وہ آباد کار تھے۔

پولیس نے ابتدائی تفتیش کے حوالے سے بتایا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ تینوں افراد کو فرقہ واریت یا لسانیت کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

گذشتہ ماہ بھی اس طرح کے واقعات میں کوئٹہ شہر میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ایک اور واقعے میں کوئٹہ سے متصل ضلع پشین میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے لیویز فورس کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔

پشین انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ یہ واقعہ چر بادیزئی کے علاقے میں پیش آیا۔

اہلکارکے مطابق اس علاقے میں لیویز فورس کے اہلکاروں نے ایک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی لیکن گاڑی میں سوار افراد نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب جعفرآباد کے علاقے میر حسن میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پولیس تھانے پر حملہ کیا۔اس حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

اسی بارے میں