کم عمری کی شادی کے خلاف قرارداد کی حمایت کا مطالبہ

Image caption توقع ہے کہ اس قرارداد میں بچوں کی شادیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جائے گا

اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل آئندہ ہفتے بچوں کی کم عمری میں یا جبری شادی سے متعلق ایک قرارداد پر غور کرنے والی ہے۔

قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں کم عمری اور جبری شادیوں کے خاتمے کے لیے سرگرم سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ایک اتحاد نے حکومت پاکستان سے اس قرارداد کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان میں نوعمری کی شادی کا رواج برقرار

کم عمری کی شادیوں کے خلاف ایک تنہا آواز

توقع ہے کہ اس قرارداد میں نہ صرف بچوں کی شادیوں کے خاتمے کی حمایت کی جائے گی بلکہ اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی قرار دیا جائے گا۔

اتحاد کے ایک بیان کے مطابق یہ ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ ممالک دنیا کے کئی خطوں سے اس قرارداد کی سرپرستی کریں، خاص طور پر وہ ممالک جہاں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔

خیبر پختونِخوا اور قبائلی علاقوں میں کم عمری اور جبری شادی کے خاتمے کے اتحاد کے رابطہ کار اور قومی ایکشن کوارڈینیشن گروپ کے صوبائی رابطہ کار قمر نسیم کا کہنا تھا کہ اس قرارداد کی منظوری اس مسئلے پر عالمی سنجیدگی کا اظہار ہو گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس قرارداد کی منظوری عالمی سطح پر اس مسئلے پر متفقہ حمایت پیدا کرنے میں مدد دے گی۔‘

قمر نسیم کا مزید کہنا تھا کہ کم عمری کی شادی روکنے کے لیے ہر سطح پر جامع کوششوں کی ضرورت ہوگی خصوصاً برادری کی سطح پر تاکہ رویے تبدیل کیے جا سکیں۔

اتحاد کے ایک رکن زار علی خان کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد حکومتوں کی اس مسئلے سے نمٹنے کی سنجیدگی کا اظہار ہو گی۔ ’اس کا خاتمہ نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ مثبت ترقی بھی ہے۔‘

اسی بارے میں