’پاکستانی معیشت کو اب بحران کے خدشے کا سامنا نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی ایم ایف نے پہلی بار یہ کہا ہے کہ پاکستانی معیشت کو اب بحران کے خدشے کا سامنا نہیں ہے

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت کے بحران کا شکار ہونے کے خطرات بہت حد تک کم ہوگئے ہیں۔

پاکستانی معیشت کے بارے میں جمعرات کو جاری ہونے والی جائزہ رپورٹ میں موجودہ حکومت کی معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستانی معیشت کی ترقی کی رفتار بہتر ہوئی ہے اور اگلے سال اس میں مزید بہتری کے آثار ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک میں مہنگائی (افراطِ زر) میں کمی آئی ہے اور اس میں مزید کمی کے آثار بھی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارہ بھی مزید کم ہو گا اور ٹیکس وصولی کی شرح میں بھی بہتری کے امکانات ہیں۔

آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ دو برس پہلے لیے جانے والے اسی نوعیت کے جائزے کے مقابلے میں پاکستانی معیشت کی بہت مختلف تصویر پیش کر رہی ہے۔

دو برس پہلے کہا جا رہا تھا کہ پاکستانی معیشت شدید معاشی بحران میں داخل ہونے والی ہے اور پاکستان کی غیر ملکی ادائیگیوں میں ناکامی کی صورت میں نادہندہ ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے تھے۔

اس وقت پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ قرض کا معاہدہ کیا جس کے بعد سے آئی ایم ایف پاکستانی معیشت میں مسلسل بہتری کے آثار کی طرف اشارے کر رہا تھا۔

تاہم آئی ایم ایف نے پہلی بار یہ کہا ہے کہ پاکستانی معیشت کو اب بحران کے خدشے کا سامنا نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption رپورٹ میں معیشت کے کمزور پہلوؤں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سرفہرست توانائی کا شعبہ ہے

آئی ایم ایف کی رپورٹ میں معیشت کے کمزور پہلوؤں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سرفہرست توانائی کا شعبہ ہے جو، رپورٹ کے مطابق معیشت کے پہیے کو تیزی کے ساتھ گھومنے سے روک رہا ہے۔

پاکستان کو قرضے کی ساتویں قسط کے اجرا کے موقع پر معاشی جائزے کے موقعے پر آئی ایم ایف کے عبوری سربراہ مٹسوہیرو فروساوا نے کہا کہ پاکستان معیشت میں حوصلہ افزا بہتری ہو رہی ہے۔

’معاشی استحکام کی جانب پاکستانی معیشت کی پیش قدمی حوصلہ افزا ہے اور اس کا سہرا آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت حکومت کی معاشی پالیسی کی اعلیٰ کارکردگی کے سر جاتا ہے۔ یہ کارکردگی قانونی، سیاسی اور سکیورٹی چیلنجوں کے باوجود بہت عمدہ رہی۔ حکومت معیشت میں عدم توازن کا باعث بننے والے عوامل کا راستہ روک رہی ہے۔ معیشت کی اس پیش قدمی کی بنیاد پر آنے والے دنوں میں مزید بہتری کی امید ہے جو معیشت میں ترقی کی رفتار کو مزید مستحکم کر سکتی ہے۔‘

رپورٹ میں معاشی ترقی کے بارے کہا گیا ہے کہ آئندہ برس معاشی ترقی کی رفتار ساڑھے چار فیصد تک بڑھ جائے گی۔

’معاشی ترقی میں اس قدر اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی، بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی اور کاروباری ماحول میں بہتری ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار میں آنے والے سالوں میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ اس دوران بجلی کی فراہمی اور کاروباری ماحول میں بھی بہتری متوقع ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی ایم ایف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو بھی طویل مدت میں پاکستانی اقتصادی شرح نمو میں اضافے کے لیے اہم قرار دیا ہے

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عقلمندانہ معاشی پالیسیوں کے باعث مہنگائی کی شرح میں بھی مجموعی طور پر کمی متوقع ہے۔

’کم ترین سطح پر ہونے کی وجہ سے فوری طور پر تو افراط زر کی شرح میں معمولی اضافہ ہو گا لیکن عقلمندانہ سرکاری مالیاتی پالیسیوں کے باعث یہ نچلی سطح پر ہی رہنے کی توقع ہے۔‘

پاکستانی معیشت کے بحران کا شکار ہونے کے امکانات کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم کے اس سے پہلے ہونے والے تمام جائزوں کے مقابلے میں پاکستانی معیشت کے بحران کا شکار ہونے کے خدشات میں بہت کمی ہوئی ہے۔

’معیشت کے بحران کا شکار ہو جانے کے امکانات بہت کم ہوگئے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ معیشت کو استحکام بخشنے والی پالیسیوں پر عمل ہے۔ اس کے باوجود قانون سازی میں سست روی اور سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز معاشی سرگرمیوں اور مالیاتی پالیسیوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔‘

رپورٹ میں رواں مالی سال کے لیے ٹیکسوں کی وصولی کے لیے جاری کردہ پالیسیوں کو بھی سراہا گیا ہے۔

’حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکسوں کی چھوٹ دینے کے لیے جاری ہونے والے ایس آر اوز کا خاتمہ کیا جائے گا اور ٹیکس ریٹرنز جمع نہ کروانے والوں پر اضافی ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔ ان اقدامات کی وجہ سے ٹیکس وصولی کی شرح میں نمایاں بہتری کے امکانات ہیں۔‘

رپورٹ میں توانائی کے شعبے میں عدم ادائیگیوں کے باعث جمع ہونے والے واجب الادا سرمائے یا سرکیولر ڈیٹ کو کم سطح پر رکھنے کے لیے حکومتی اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

’حکومت سبسڈیز کم کرنے کے علاوہ انتظامیہ اور انتظامی اخراجات میں بہتری کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ اس میں ملازمین کی تنخواہوں کے اخراجات میں کمی اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ وغیرہ شامل ہے۔‘

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت کے مختلف شعبوں کی اس کارکردگی کے باوجود توانائی کا شعبہ نہ صرف معیشت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے بلکہ خزانے پر بوجھ بھی بن رہا ہے۔

’چھ گھنٹے روزانہ کی لوڈشیڈنگ ناقابل قبول حد تک زیادہ ہے۔ بجلی کا شعبہ ابھی تک اپنی آمدن اور اخراجات میں توازن پیدا نہیں کر سکا ہے جس کی وجہ سے یہ شعبہ اپنی صلاحیت کے مطابق بجلی پیدا نہیں کر پا رہا ہے۔ یہ کمی گردشی قرضوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔‘

آئی ایم ایف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو بھی طویل مدت میں پاکستانی اقتصادی شرح نمو میں اضافے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ راہداری منصوبہ پاکستانی معیشت کی ترقی کی رفتار میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے چین پاکستان میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں کثیر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ اس منصوبے کے ذریعے پاکستان میں توانائی کی ضروریات بھی پوری ہو سکیں گی، جو معیشت کے لیے اچھی خبر ہے۔

اسی بارے میں