ایان علی کا آئینہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جن پاکستانیوں کی عمر پچاس سے اوپر ہے انھیں شاید پاکستانی میڈیا کا پہلا چٹخارے دار سکینڈل یاد ہو جب اکتوبر 1969 میں اردو کے اہم شاعر مصطفیٰ زیدی کی پراسرار موت ہوئی اور قتل کے شبے میں ان کی دوست شہناز گل کی لگاتار عدالتی پیشیاں شروع ہوئیں۔

پیشی والے دن وہ صحافی بھی کمرہِ عدالت میں گھسنے کی کوشش کرتے جن کا عدالتی رپورٹنگ سے کوئی لینا دینا نہ تھا۔ معزز وکلا پریس فوٹو گرافروں کی خوشامد کرتے کہ پیارے بھائی جیسے ہی میڈم کمرہِ عدالت سے باہر نکلیں ان کے ساتھ چلتے ہوئے میری تصویر ضرور لے لینا۔

جو رپورٹر اس مقدمے کی کوریج پر مامور ہوتے ان سے اخباری مالکان بطورِ خاص خوش اخلاقی برتتے پائے گئے۔

نیوز ایڈیٹر بذاتِ خود سرخیاں نکالتے: ’آج شہناز گل نے فیروزی جمپر پہنا، آج شہناز کی لٹ چہرے پہ خصوصی بل کھا رہی تھی، آج شہناز کے چہرے پر ضرورت سے زیادہ بشاشت تھی۔ آج ان کا چہرہ طیش سے تمتما رہا تھا۔ آج شہناز کمرہِ عدالت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے لڑ کھڑا گئیں، کئی وکیل سنبھالا دینے لپکے جنھیں پولیس نے بروقت سنبھال لیا۔‘

شہر کے معروف چوکوں پر اخباری ہاکر اپنے گلے بٹھا لیتے: ’تازہ خبر ۔۔۔ مصطفیٰ زیدی کو شہناز کے شوہر نے قتل کرایا۔ راز فاش ہوگیا ۔۔۔ شہناز نے زیدی کو کافی میں زہر دیا۔ شہناز قتل کے فوراً بعد ایک پراسرار مڈ وائف سے کیوں ملی؟ کھل گیا، کھل گیا، گرما گرم۔۔۔‘

سال بھر مقدمہ چلا، شہناز بری ہوگئی اور اخباری فرنٹ پیج کا بخار بھی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ تب تک اخباری مالکان اپنی تجوریاں مزید بھر چکے تھے۔

حالانکہ زیدی قتل کیس کے مقابلے میں ایان علی کا کرنسی اسمگلنگ کیس کچھ بھی نہیں، لیکن شہناز گل کے برعکس ایان علی ایسے دور میں کرنسی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی زد میں آئی ہے جب میڈیا اور سماج پہلے سے زیادہ خونخوار اور گلا کاٹ ہو چکا ہے اور کمرشل ازم کے دیو نے منحنی کاروباری و سماجی اخلاقیات کو بھی کھڑکی سے باہر پھینک دیا ہے۔

عام طور پر منی لانڈرنگ یا کرنسی سمگلنگ کے مقدمات میں ڈھائی پیشیوں کے بعد ضمانت ہو جاتی ہے۔ ابھی پچھلے برس ہی ایک تھائی خاتون لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ ڈالر لے جاتے ہوئے پکڑی گئی اور تیسری پیشی میں ضمانت ہو گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Instagram

لیکن ایان علی کے کرنسی کیس کا چالان چار ماہ اور بارہ پیشیاں بھگتنے کے باوجود بھی عدالت میں پیش نہیں ہو سکا۔ اس دوران ایک جج اور ایان کا وکیل بھی بدل گیا (پہلے خرم لطیف کھوسہ اور پھر ان کے والد لطیف کھوسہ)۔

بظاہر کسٹمز عدالت کو بھی پراسکیوشن کی نااہلی پر زیادہ تشویش نہیں اور پراسکیوشن کو بھی خاص جلدی نہیں۔ جیل والے بھی نہیں چاہتے کہ یہ رونق میلہ فی الحال ختم ہو، اور میڈیا تو جائے نماز بچھائے بیٹھا ہے کہ یا اللہ تیرے خزانے میں کیا کمی ہو جائے گی اگر ایان علی کی ضمانت نہ ہو۔۔۔

ہر پیشی پر عدالت کے احاطے میں اتنے سائل نہیں ہوتے جتنے کیمرے۔ کسی کو ملزمہ کے لانگ شاٹس میں قطعاً دلچسپی نہیں۔ ایسا لگتا ہے کیمرے کے پیچھے کوئی ماہر قصائی ہو جسے پورا بکرا صرف دستی، گردن، چانپ، ران، سری پائے کی شکل میں دکھائی دیتا ہے۔ رہی سہی کسر نیوز اینکر اور لائیو رپورٹر پوری کر رہے ہیں۔

کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ان باتوں کا مقدمے سے کیا تعلق بنتا ہے کہ ایان علی پیشی سے پہلے ایک لاکھ 69 ہزار روپے میک اپ، لباس اور تیاری پر خرچ کر رہی ہیں۔ اور یہ ہے ایان علی کی گردن جس پر آپ ٹیٹو دیکھ سکتے ہیں۔ ابھی ابھی بریکنگ نیوز آئی ہے کہ ایان علی سیلفی بنانے کی کوشش کرنے والے وکلا پر برس پڑیں۔ ایان علی کے ہمراہ پولیس سنتری بھی پرفیوم میں مہک رہے تھے۔ اس بارے میں مزید بات کرتے ہیں، موقعے پر موجود ہمارے رپورٹر ایم بوٹا سے۔۔۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سب سے زیادہ فرسٹریٹڈ سوشل میڈیا ہے۔ اکثر فیس بکیوں کا بس نہیں چل رہا کہ جیل توڑ کے ایان علی کے سیل تک پہنچ جائیں۔ بڑے بڑے نام نہاد ٹی وی اینکر ایسے ایسے فحش ٹویٹ کر رہے ہیں کہ دہرانا محال ہے۔

ایان علی کا بنیادی مسئلہ سپر ماڈل یا ملزم ہونا نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کسی بااثر شخص کی بیٹی، بہو، بہن ہوئے بغیر صرف ایک معروف خوبرو عورت ہے۔ ورنہ ایان ایسی بہتی گنگا کبھی بھی نہ ہوتی کہ جس میں پراسکیوشن، قانون دان، میڈیا، تماشبین سب ہاتھ دھو رہے ہوں اور کوئی بھی کرنسی سمگلنگ کے ایک عام سے کیس کو نارمل مقدمے کی طرح دیکھنے پر تیار نہ ہو۔

اس غوغا ہائے ننگ میں بھلا ایان کی کون سنے کہ مقدمے سے ہٹ کے میری کردار کشی کیوں ہو رہی ہے۔

اچھی صورت بھی کیا بری شے ہےجس نے ڈالی بری نظر ڈالی

اسی بارے میں