ٹرین کا انجن پل سے پہلے ہی پٹری سے اتر گیا تھا: سعد رفیق

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وزیرِ آباد کے قریب فوجیوں کو لے جانے والی خصوصی ٹرین کی چار بوگیاں نہر سے فوج کے لیفیٹنٹ کرنل سمیت 18 افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ فوج کی خصوصی ٹرین کو پیش آنے والے حادثے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ٹرین کا انجن پٹری سے اتر گیا اور ڈرائیور نے ہنگامی بریک لگائی لیکن پل کی وجہ سے ٹرین نہر میں جا گری۔

پیر کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں سعد رفیق نے بتایا کہ حادثے کی مشتشرکہ تحقیقاتی رپورٹ آئندہ تین دن میں مکمل ہو جائے گی۔

فوجیوں کی ٹرین کے حادثے میں ہلاکتیں 18، لاپتہ افراد کی تلاش جاری

انھوں نے کہا کہ ریلوے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین کا انجن جائے حادثے سے تقریباً 945 فٹ پہلے پٹری سے اتر گیا تھا اور اُس جگہ پر ریلوے لائن پر کھلی اور ٹوٹی ہوئی فش پلیٹیں اور نٹ بولٹ ملے ہیں۔

سعد رفیق نے کہا کہ ’یہ فیصلہ جی آئی ٹی کرے گی کہ انجن کی پٹری سے اترنے کے بعد فش پلیٹیں کھلیں یا پھر پہلے سے ٹریک میں کوئی خرابی تھی۔‘

وزیر ریلوے نے بتایا کہ ہیڈ چھناوں کے پل سے 26 کلومیٹر پہلے تنگ موڑ کی وجہ سے ’ڈیڈ سٹاپ‘ کا سائن ہے لیکن حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین اُس مقام پر روکنے کے بجائے تیز رفتاری سے گزری۔

انھوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر اُس ہی مقام پر ٹرین کا انجن پٹری سے اتر گیا اور بیانات کے مطابق ڈرائیور نے ٹرین روکنے کے لیے ایمرجنسی بریک لگائی۔

’مختلف زاویوں سے حادثے کی وجہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انجن زیادہ رفتار کی وجہ سے پٹری سے اترا یا کچھ اور وجہ تھی۔ انجن کو بھی پانی سے نکال لیا گیا ہے تاکہ اس میں کسی مکینیکل خرابی کا بھی جائزہ لیا جائے۔‘

پریس کانفرنس کے دوران وزیر ریلوے نے بدقسمت ٹرین کے انجن کے بارے میں بتایا کہ پاکستان ریلوے نے 1969 میں یہ انجن خریدا تھا اور سنہ 2003 میں انجن کو 15 برسوں کے لیے دوبارہ کارآمد بنایا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ انجن 2018 تک بالکل فٹ تھا اور سنہ 2003 میں کارآمد ہونے کے بعد سے حادثے کا شکار ہونے انجن نے 14 لاکھ کلومیٹر کا سفر طے کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعد رفیق نے بتایا کہ 50 پلوں کی تعمیر و مرمت کا کام رواں سال مکمل کیا جائے گا

وزیر ریلوے نے ہیڈ چھناواں کا پل خستہ ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’نہ تو ٹریک پر کوئی پابندی تھی اور نہ ہی پل خستہ حال پلوں کی فہرست میں شامل تھا۔ حادثے کے بعد ایک کے علاوہ پل کے باقی ستون بالکل ٹھیک ہیں۔‘

خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کے پلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ریلوے کے مجموعی پلوں کی تعداد 13956 ہے، جن میں سے 159 کی تعمیر و مرمت ہونی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ رواں سال کے دوران 50 پلوں کی تعمیر و مرمت کا کام مکمل کیا جائے گا۔

گذشتہ ہفتے وزیرِ آباد کے قریب فوجیوں کو لے جانے والی خصوصی ٹرین کی چار بوگیاں نہر سے فوج کے ایک لیفیٹننٹ کرنل سمیت 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں