’کرپشن کی تحقیقات‘ پر وفاق اور سندھ میں ناراضگی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نیب نے کئی سابق اور موجودہ صوبائی اور بلدیاتی حکام کے خلاف کرپشن کے الزامات میں تحقیقات کا آغاز کیا ہے

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی جانب سے پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو ملنے والے خصوصی اختیارات کی شدید مخالفت اور عدالت سے رجوع کرنے کی دھمکی کے بعد سے صوبہ سندھ میں وفاقی اداروں کے اختیارات پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

یہ تنازع ایسے وقت پیدا ہوا ہے جبکہ صوبائی حکومت پہلے ہی رینجرز کی بعض کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہے۔

پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کا اصرار ہے کہ ایف آئی اے کو کسی بھی مشتبہ شخص کو مقدمہ درج کیے بغیر 90 دن تک حراست میں رکھنے کے اختیارات صرف سندھ تک محدود ہیں۔ ان کے مطاق صوبے میں احتساب کے قومی ادارے نیب اور ایف آئی اے کی حالیہ کارروائیاں صوبے پر حملے کے مترادف ہیں۔

ایم کیو ایم نے اس معاملے میں صوبائی حکومت کے موقف کی مکمل حمایت کی ہے مگر حزب اختلاف کی بعض دیگر جماعتوں نے صوبے میں مبینہ مالی بدعنوانیوں کی شکایات پر نیب اور ایف آئی اے کی کارروائیوں کی حمایت کی ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی معاون خصوصی شرمیلا فاروقی نے وفاقی حکومت کے اس مؤقف کو مسترد کردیا ہے کہ ایف آئی اے کو تحفظ پاکستان قانون کے تحت اضافی اختیارات پورے ملک کے لیے دئیے گئے ہیں۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’سندھ واحد صوبہ ہے جہاں ایف آئی اے کو یہ اختیارات دیے گئے ہیں اور یہاں ہو یہ رہا ہے کہ ہمارے کلرکوں اور مختلف محکموں کے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے اور انھیں اس حد تک ہراساں کیا جارہا ہے کہ انھوں نے اپنا کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔‘

انھوں نے اس تاثر کو رد کردیا کہ صوبہ سندھ میں کرپشن کی شکایات ملک کے باقی حصوں سے زیادہ ہیں۔ ’اس ملک میں آپ یہ تو نہیں کہہ سکتے نا کہ کرپشن نہیں ہے یا یہ کہ پنجاب، بلوچستان یا دوسرے صوبوں میں کرپشن نہیں ہے لیکن وہاں پر ہم نے نہیں دیکھا کہ ایف آئی اے کو یہ خصوصی اختیارات دیے گئے ہوں۔‘

شرمیلا فاروقی نے کہا کہ صوبے میں کرپشن کی روک تھام کے لیے اینٹی کرپشن کا محکمہ اور وزیر اعلیٰ سندھ کی انسپیکشن ٹیم موجود ہے اور اگر وفاق کے سامنے کرپشن کا کوئی بڑا معاملہ آتا ہے تو وہ صوبے کی مدد مانگ سکتا ہے تاہم ’یہ نہیں ہوسکتا کہ وفاق سندھ کی صوبائی خودمختاری پر ڈاکہ ڈالے۔‘

’اٹھارویں ترمیم کے بعد سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر صوبے کو صوبائی خودمختاری دی گئی ہے اور اگر وفاق کے ادارے صوبے کے معاملات میں مداخلت کریں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صوبوں کو کمزور کررہے ہیں، صوبائی حکومت کی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں اور صوبائی خودمختاری کی اہمیت کو کم کررہے ہیں۔‘

وزیر اعلیٰ سندھ کی معاون خصوصی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں رینجرز کو بھی مقدمے کے بغیر 90 دن کے لیے کسی بھی شخص کو حراست میں رکھنے کے اختیارات دینے پر اعتراض کیا تھا مگر جرائم پیشہ افراد اور دہشتگردوں کے خلاف شواہد جمع کرنے کے لیے ان اختیارات کو ضروری قرار دیا گیا اس لیے پارٹی نے اسے قبول کیا۔

ادھر سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ فنکشنل کے پارلیمانی لیڈر نند کمار نے سندھ میں کرپشن کی شکایات پر وفاقی حکومت کی کارروائیوں کا دفاع کیا ہے۔

’سندھ میں پیپلز پارٹی کے اقتدار کا آٹھواں سال ہے۔ انھوں نے کرپشن میں ملوث افسران یا ان کے اپنے ارکان اور وزراء کے خلاف کیا کارروائی کی ہے۔ جب صوبائی حکومت کوئی کارروائی نہیں کرے گی تو ظاہر ہے وفاقی حکومت کو مداخلت کرنا ہوگی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعلیٰ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور لائنز ایریا ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ کے دفاتر پر رینجرز کے چھاپوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا

انھوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کی غرض سے بنائی گئی صوبائی اپیکس کمیٹی نے کرپشن میں ملوث افراد کی ایک فہرست دی ہے جسے صوبائی حکومت منظر عام پر نہیں لارہی۔ ’جو انھوں نے بندے مانگے ہیں، اخلاقاً ہونا یہ چاہیے کہ ان سے استعفے دلا کر انھیں عوام کے سامنے پیش کرتے انھیں ایجنسیوں کے حوالے کرتے، چاہے نیب ہو ایف آئی اے کوئی بھی ہو۔‘

وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے پچھلے ماہ کراچی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور لائنز ایریا ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ کے دفاتر پر رینجرز کے چھاپوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور انھیں کہا تھا کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہیں اور اختیارات سے تجاوز نہ کریں۔

صوبہ سندھ میں حالیہ ہفتوں کے دوران نیب نے کئی سابق اور موجودہ صوبائی اور بلدیاتی حکام کے خلاف کرپشن کے الزامات میں تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ صوبے کے سابق وزیر تعلیم پیر مظہرالحق اور موجودہ صوبائی وزیر بہبود آبادی سید علی مردان شاہ نے کرپشن کی ایسی ہی دو انکوائریوں میں سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری لے رکھی ہے۔

اسی بارے میں