ظفر جمالی کو ہاکی کی باگ ڈور دیے جانے کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میرظفراللہ جمالی اس سے قبل 2006 میں بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بنائے گئے تھے

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کا صدر بنائے جانے کا امکان ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے پاکستانی ہاکی ٹیم کی تاریخ میں پہلی بار اولمپکس میں شرکت سے محرومی اور انتہائی ناقص کارکردگی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف ایک کمیٹی قائم کی ہے بلکہ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن میں تبدیلی کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں اور انھوں نے اس ضمن میں میرظفراللہ جمالی کے نام پر اتفاق کیا ہے۔

’یہ پاکستانی ہاکی کا بدترین دن ہے‘

واضح رہے کہ اس وقت پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اختر رسول ہیں جن کا تعلق حکمراں جماعت مسلم لیگ ن سے ہے جبکہ سیکریٹری سابق اولمپیئن رانا مجاہد ہیں تاہم اس بات کے امکانات ہیں کہ یہ دونوں اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکیں گے۔

بی بی سی کو انتہائی مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے غیرملکی دورے پر روانگی سے قبل میر ظفراللہ خان جمالی سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کے ارکان بھی اسلام آباد میں میر ظفراللہ جمالی سے ملاقات کی تھی۔

وزیراعظم کی جانب سے مقرر کی گئی اس کمیٹی کا پہلا اجلاس جمعرات کے روز اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے سابق اولمپیئن سمیع اللہ کا نام بھی تجویز کیا گیا تھا جو ان کی حکومت مخالف تحریک انصاف سے وابستگی کے سبب مسترد کر دیا گیا۔

71 سالہ میر ظفراللہ جمالی اس سے قبل 2006 میں بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بنائے گئے تھے لیکن بیجنگ اولمپکس کے بعد سابق اولمپئنز نے انہیں ہٹانے کے لیے مہم شروع کر دی تھی۔

اسی دوران میر ظفراللہ جمالی کے منتخب کردہ سیکریٹری خالد محمود کو ہٹا کر آصف باجوہ نے سیکریٹری کا عہدہ حاصل کر لیا تھا جس کے کچھ عرصے بعد ہی میر ظفراللہ جمالی نے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔

میر ظفراللہ جمالی کے صدر بننے کی صورت میں سابق اولمپیئنز شہباز سینیئر اور نوید عالم کو نئے سیٹ اپ میں اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔

اسی بارے میں