اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈیول مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ کیا اسلام آباد کے شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے اُمیدواراوں کا انتخابات کرنے کا کوئی حق نہیں؟‘

سپریم کورٹ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق جاری کردہ شیڈیول مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نیا انتخابی نظام الاوقات جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے جانے والے شیڈیول کے مطابق اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 25 جولائی کو ہونا تھےاور اس ضمن میں اُمیدواروں کو انتخابی نشان بھی الاٹ کر دیے گئے تھے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ صوبہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کنٹونمنٹ کے علاقوں میں انتخابات ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ صوبہ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈیول بھی آ چکا ہے تو پھر اسلام آباد میں انتخابات کیوں نہیں ہو رہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ اس سال مارچ میں اسلام آباد میں بلدیاتی اتنخابات سے متعلق بل قومی اسمبلی سے منظور کرایا گیا جبکہ سینیٹ سے ابھی تک منظور نہیں کرایا گیا۔

اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے سامنے قانون سازی کے لیے بہت سے بل پڑے ہیں لیکن اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق قانون سازی کو کیوں اہمیت نہیں دی جا رہی؟

یاد رہے کہ پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کے بعد امکان یہی ہے کہ اس بل پر اعتراضات لگا کر دوبارہ قومی اسمبلی میں بھجوا دیا جائے گا۔

سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی سے سینیٹ کے اجلاس کے دوران رولنگ دی تھی کہ چونکہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق بل ابھی تک قانون کا درجہ حاصل نہیں کر سکا اس لیے الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ شیڈیول پر انتخابات غیر آئینی ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے جانے والے شیڈیول کے مطابق اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 25 جولائی کو ہونا تھے

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کا بھی یہ موقف رہا ہے کہ چونکہ اس بل کو ابھی قانون کا درجہ نہیں مل سکا اس لیے ان حالات میں بلدیاتی انتخابات کروانےسے پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ کیا اسلام آباد کے شہری تیسرے درجے کے شہری ہیں اور کیا اُنھیں اپنے مسائل کے حل کے لیے اُمیدواروں کا انتخابات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس بارے میں اہم اجلاس اٹارنی جنرل کے آفس میں جاری ہے اور اس بارے میں جو بھی تفصیلات ہوں گی اس بارے میں عدالت کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

اس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس بارے میں اُنھیں چیمبر میں آ کر بتایا جائے۔

درخواست گزار سید ظفر علی شاہ کا کہنا تھا کہ اہم عہدوں پر تعینات بیوروکریٹ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک آئینی تقاضا ہے جس سے کسی طور پر بھی روگردانی نہیں کی جا سکتی۔

اٹارنی جنرل کے آفس میں ہونے والے اجلاس میں ہونے والے اجلاس سے متعلق جسٹس جواد ایس خواجہ کو چیمبر میں بتایا گیا جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ وہ حکومت سے درخواست کریں گے کہ اس بارے میں جلداز جلد قانون سازی کی جائے جس پر عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت تین اگست تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں