’نواز، مودی ملاقات، خطے کی بہتری اسی میں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نواز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات شنگھائی تعاون کونسل کے اجلاس کے موقعے پر ہوئی

جس طرح آخری لمحات میں بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی درمیان ملاقات طے ہوئی ہے اس سے کسی بڑے اعلان یا فیصلے کی توقع کرنا مشکل ہے، لیکن دونوں ممالک مذاکرات کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے ہی پر آمادہ ہو جائیں تو اسے یقیناً اہم کامیابی تصور کیا جائے گا۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جس طرح کی تلخیاں حالیہ دنوں میں بڑھی ہیں اس میں یہ ملاقات ہی امن کے متلاشیوں کے لیے بہت ہے۔ کہیں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ’را‘ پر پاکستان میں ملوث ہونے کی رپورٹیں اور الزامات سامنے آئے تو کہیں لائن آف کنٹرول پر مسلسل تصادم نے ماحول کو کشیدہ رکھا۔

اوپر سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے بھی دھمکی آمیز بیانات کی مسلسل فیکٹری لگا رکھی ہے تاکہ یہ تلخی کم نہ ہو۔ ایسے میں لگتا ہے کہ عقل کے ناخن لیے گئے اور پس منظر میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بارآور ثابت ہوئیں اور پہلے ٹیلیفون رابطے ہوئے اور اب ملاقات۔

نیپال میں گذشتہ برس اکتوبر میں آمنے سامنے آنے کے بعد یہ دونوں رہنماؤں کا دوسرا مصافحہ ہوگا۔ خارجہ امور پر وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے واضح کر دیا تھا کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات کی بحالی کے لیے دوبارہ رابطہ نہیں کرے گا، اگر بھارت کو پاکستان سے بات کرنی ہے تو اسے پہل کرنا ہوگی۔ لہٰذا ادھر سے پہل ہوگئی۔

خارجہ امور کے معاون خصوصی نے یہ باتیں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹریو میں کیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے اس سخت لب و لہجے سے تو نہیں لگتا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات مسقتبل قریب میں بہتر ہونے کی امید ہے، تو خارجہ امور کے وزیر مملکت نے کہا کہ یہ تاثر درست ہے۔

پاکستانی شکر کر رہے ہیں کہ کم از کم اس بابت طارق فاطمی کا تاثر غلط ثابت ہوا۔

اس بہتری میں امریکہ کا بھی عمل دخل ہے۔ جب نواز شریف کو مودی صاحب کا فون آیا تو فوراً بعد امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری نے بھی پاکستانی نمبر گھمایا اور بات کی۔ اس سے ثابت ہوا کہ پس پردہ امریکہ بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔

کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ہمیشہ سے مرکزی نکتہ رہا ہے۔ اس اور اس جیسے پرانے تاریخی تنازعات پر تو اس ملاقات میں کوئی بات ہونے کی توقع نہیں ہے لیکن اگر وہ آج کل پیدا ہونے والے روز کے چھوٹے موٹے مسائل، جیسے کہ سرحد پر جھڑپیں اور بیانات کی جنگ، بند کروانے میں کامیاب ہو جائیں تو اہم پیش رفت مانی جاسکتی ہے۔

کرنے کو تو دونوں ممالک کے درمیان بہت کچھ ہے، بس رہنماؤں کی بصیرت چاہیے۔ وہ لائن اور ایکشن چاہیے جس کے تحت پاکستان اپنے ملک کے اندر دہشت گردی پر کسی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوتا دکھائی دیتا ہے، لیکن اس سے آگے بڑھ کر علاقائی سطح پر بھی ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کارگر کوششیں ہونی چاہییں۔ یہ کوششیں صرف افغانستان تک محدود نہ ہو بلکہ ان کا دائرہ ایران اور بھارت تک بھی بڑھایا جائے۔ خطے کی بھلائی اسی میں ہے۔

اسی بارے میں