اسماعیلی بس حملہ کیس، ملزمان کی شناخت پریڈ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے اس مقدمے میں طاہر منہاس اور سعد عزیز سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ایک مقامی عدالت میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے ملزمان کی چشم دید گواہوں نے شناخت کر لی ہے۔

جوڈیشل میجسٹریٹ ملیر غلام مصطفیٰ ٹانوری کی عدالت میں جمعے کو بس پر حملے کے الزام میں گرفتار ملزمان طاہر حسین عرف سائیں اور سعد عزیز کو غیر متعلقہ افراد کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا، جہاں پانچ چشم دید گواہوں نے دونوں کی بطور ملزم شناخت کر لی۔

چشم دید گواہوں میں بس ڈرائیور اور تین خواتین بھی شامل تھیں جو اس واقعے میں زخمی ہوگئی تھیں۔

ابتدائی دنوں میں تعاون نہ ہونے کی وجہ سے پولیس کو تفتیش میں دشواری کا سامنا رہا، تاہم بعد میں تحفظ کی یقین دہانی کے بعد چشم دید گواہ شناخت کے لیے راضی ہو گئے۔

اس سے قبل طاہر حسین اور سعد عزیز کو پولیس کے سخت حفاظتی انتظامات میں عدالت میں لایا گیا۔

سعد عزیز کراچی اور طاہر منہاس کوٹڑی سے تعلق رکھتے ہیں۔ سی ٹی ڈی یعنی محکمۂ انسداد دہشت گردی نے طاہر منہاس کو حملے کا سرغنہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ’دولتِ اسلامیہ‘ سے متاثر ہے۔

اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے نتیجے میں ڈرائیور سمیت 45 افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے، بعد میں ایک شخص نے لاشوں سمیت بس کو ہپستال پہنچایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اسماعیلی برداری کی بس پر حملے کے نتیجے میں ڈرائیور سمیت 45 افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے

پولیس نے اس مقدمے میں طاہر منہاس اور سعد عزیز سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے جبکہ نو تاحال مفرور ہیں۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ گروہ 30 افراد پر مشتمل ہے۔

دوسری جانب انسداد دہشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی نے ماری پور کے علاقے سے سات مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اعلامیے میں ملزمان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان عمر خراسانی گروپ سے بتایا گیا ہے۔

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان میں مقامی کمانڈر شیر محمد بھی شامل ہے، یہ تنظیم تحریک طالبان کے لیے مقامی طور پر چندہ اور بھتہ وصول کرنے میں بھی ملوث ہے۔

اسی بارے میں