’وزیرستان میں کارروائی، چار اہلکار اور نو شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال جون میں فوج نے شمالی وزیرستان میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا تھا اور یہ آپریشن بدستور جاری ہے

پاکستانی فوج نے قبائلی علاقے میں ایک کارروائی کے دوران نو شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے یہ سرچ آپریشن سنیچر کو شمالی و جنوبی وزیرستان ایجنسی کی سرحد پر واقع علاقے پریغر میں کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس آپریشن کے دوران جہاں جھڑپ میں نو شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا وہیں جبکہ اس کارروائی میں چار سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے۔

ضربِ عضب کا ایک سال

ادھر پاکستانی فوج کے اہلکاروں پر اس حملے کی ذمہ داری خالد سجنا گروپ کے محسود طالبان کے ترجمان اعظم طارق نے قبول کی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کے رفعت اللہ اورکزئی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں سکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا ہے اور تمام اہلکاروں کی لاشیں ان کے قبضے میں ہیں۔

تاہم مقامی طور پر طالبان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

خالد سجنا گروپ کے محسود طالبان شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقوں میں سرگرم ہیں اور اس گروپ کی جانب سے پہلے بھی ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملے ہوتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ اتوار کی صبح شمالی وزیرستان کے علاقے تحصیل دتہ خیل کے رکزیہ نامی گاؤں میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے بم حملوں اور جھڑپوں میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

گذشتہ سال جون میں فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا جو بدستور جاری ہے۔

فوج کے مطابق آپریشن کے نتیجے میں اب تک ایجنسی کا 90 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔ تاہم سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ان علاقوں میں فوج نے حال ہی میں زمینی حملوں کا آغاز بھی کیا ہے جبکہ اس دوران اس علاقے میں سکیورٹی فورسز پر بھی حملوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں پر حکومت کی عمل داری بحال کرانے کےلیے فیصلہ کن کاروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے تقریباً دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں جو بدستور پناہ گزین کیمپوں یا اپنے طورپر کرائے کے مکانات یا رشتہ داروں عزیزوں کے ہاں مقیم ہیں۔

اسی بارے میں