’سندھ میں 48 مدراس کے شدت پسندوں کے ساتھ روابط‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ سندھ میں مدرسوں کی کُل تعداد 9590 ہے

کراچی میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ سندھ میں 48 مدارس ایسے ہیں جن کے شدت پسندوں کے ساتھ روابط ہیں۔

حکومت سندھ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اتوار کے روز ہونے والی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں صوبے میں مدارس کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی۔

ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ، گورنر عشرت العباد، کور کمانڈر کراچی اور ڈی جی رینجرز کے علاوہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداران بھی شریک تھے۔

اہلکار کے مطابق اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جس 48 مدرسوں کے شدت پسندوں کے ساتھ روابط ہیں ان میں سے 24 کراچی میں جبکہ بقیہ 24 صوبے کے دیگر شہروں میں واقع ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ صوبہ سندھ میں مدرسوں کی کُل تعداد 9590 ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ ان مدرسوں میں سے تقریباً 68 فیصد یعنی 6503 مدرسے رجسٹرڈ ہیں جبکہ 3087 مدرسے رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کُل 167 مدرسوں کو سیل کی گیا ہے۔ ان میں سے 139 حیدر آباد کے ہیں جبکہ 28 بینظیرآباد میں واقع ہیں۔

تاہم اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ مدرسے کب اور کس وجہ سے سیل کیے گئے ہیں۔

ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں عسکری اور سیاسی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کراچی میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔

کمیٹی نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ جرائم پیشہ افراد کسی بھی گروہ یا جماعت سے تعلق رکھتےہوں ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ رینجرز اختیارات کے ساتھ شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کرتی رہے گی اور ہر ادارہ اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرتا رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عسکری اور سیاسی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کراچی میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کو مزید تیز کیا جائے

اس اجلاس کے بعد سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ کالعدم تنظیمیں کی موجودگی اب بھی ہے اور ان کے خاتمے کے لیے سخت ایکشن لیا جائے گا۔

’کچھ کالعدم تنظیمیں اور جماعتیں اب بھی شدت پسندوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہی ہیں ان کے خلاف ایکشن کو تیز کیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی سیکریٹری داخلہ کی قیادت میں ایک ٹاسک فورس قائم کیا گیا ہے، جس میں سندھ پولیس اور رینجرز کا ایک نمائندہ شامل ہوگا۔ یہ ٹاسک فورس ایپکس کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہر صورت میں حوصلہ افزائی کی جائے گی اور انھیں انعامات سے بھی نوازہ جائے گا۔ ان کے مطابق اسی طرح گرفتار دہشتگردوں کو عدالتوں سے سزائیں دلانے کے لیے ایک وسیع لائحہ عمل تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور عدالتی انتظامیہ سے مدد لینے کےلیے چیف سیکریٹری سندھ اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی ہے۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ نہ صرف دہشتگرد، ان کے سہولت کار اور مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف بھی آپریشن کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ بریفنگ میں ان مدارس کے خلاف ایکشن کے بارے میں بتایا گیا ’جو شدت پسندی کی تربیت اور شدت پسندی کی جانب راغب کرتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ تین صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں کرائم ریٹ سب سے کم ہے۔

اسی بارے میں