’لکھوی کی آواز میچ کرانے سے متعلق احکامات نہیں ملے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ذکی الرحمن لکھوی اور دیگر ملزمان کی آواز کو ملانےسے متعلق عدالت میں درخواست دائر کرنے کے کوئی احکامات نہیں ملے‘

روس کے شہر اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر پاکستان میں بھارت کے وزرا اعظم کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے سیکرٹری خارجہ نے پریس کانفرس میں بتایا تھا کہ دونوں ملکوں نے ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات کے لیے دو طرفہ تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس ضمن میں دیگر تعاون سمیت ملزموں کی آوازوں کی ریکارڈنگ کا تبادلہ بھی کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ادھر ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری محمد اظہر کا کہنا ہے کہ اُنھیں وفاقی حکومت کی طرف سے اس مقدمے کے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی اور دیگر ملزمان کی آواز کو ملانےسے متعلق عدالت میں درخواست دائر کرنے کے کوئی احکامات نہیں ملے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی آواز کو میچ کرنے کے بارے میں متعلقہ عدالت میں 2011 میں ایک درخواست دائر کی تھی جسے متعلقہ عدالت نے یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ پاکستان کے قانون شہادت میں اس طرح کی آڈیو کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے کی تفتیش کے دوران یہ پتہ چلایا تھا کہ ملزمان نے آپس میں گفتگو کے لیے امریکہ سے’کھڑک سنگھ‘ کے نام سے لنک خریدا تھا۔ بعد ازاں اس منی ایکسچینج والے کا بیان بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے جہاں پر اس لنک کو خریدنے کے لیے پیسے بھجوائے گئے تھے۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر قمر زمان نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ اُنھوں نے اس لنک کے ذریعے ریکارڈ کی گئی آواز کو سنا ہے اس کے علاوہ اور ملزمان سے تفتیش کے دوران بھی اُن کی آوازیں سنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اُنھیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملزمان کی آواز اس آڈیو ٹیپ سے ملتی ہے جو ممبئی حملوں کے دوران ملزمان کے درمیان گفت و شنید ہوئی تھی۔ اس تفتیشی افسر کے مطابق وہ اس معاملے میں سو فیصد وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ آوازیں ملزمان ہی کی ہیں۔

سرکاری وکیل کے بقول ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں 22 ملزمان نامزد ہیں جن میں سے نو ملزمان ممبئی حملوں کے دوران مارے گئے جبکہ اجمل قصاب کو بھارتی عدالت کے حکم پر پھانسی دی گئی۔

اس کے علاوہ پاکستان میں ذکی الرحمن لکھوی سمیت بارہ افراد پر مقدمہ درج ہے جن میں سے ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت ہچکی ہے جبکہ چھ ملزمان جیل میں ہیں اس کے علاوہ پانچ ملزمان ابھی تک اشتہاری ہیں۔ ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت مسترد کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

سرکاری وکیل نے اس مقدمے میں اجمل قصاب اور بھارتی شہری فہیم انصاری کو اشتہاری قراد دینے کے لیے درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر رکھی ہے تاہم اس پر کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہوئی۔

ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے کی عدالتی کارروائی 15 جولائی کو ہوگی۔

اسی بارے میں