فاٹا: چار عیسائیوں اور سکھوں کو قبائلی مَلک کا درجہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دہشت گردی کے خلاف جنگ نے اقلیتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے کئی سکھ اور عیسائی خاندان قبائلی علاقے چھوڑ کر شہر علاقوں میں منتقل ہوئے

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں عرصہ دراز سے مقیم اقلیتی برادریوں نے حکومت کی جانب سے ان کو قبائلی مَلک کا درجہ دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا میں دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی دھارے میں شامل کیا گیا ہے جس سے تفریق کی فضا ختم ہوگئی ہے۔

کمشنر پشاور کی جانب سے حال ہی میں خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے چار غیر مسلموں کو قبائلی ملک یا مشر کا درجہ دیا گیا ہے۔ ان میں دو افراد کا تعلق عیسائی اور دو کا سکھ برادری سے ہے۔ ان اقلیتوں کو اب مسلمان قبائلیوں کے برابر حقوق اور مراعات دی جائیں گی۔

قبائلی ملک کا درجہ حاصل کرنے والے عسیائی برادری سے تعلق رکھنے والے ملک ولسن وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فیصلے سے فاٹا میں مقیم تمام اقلیتوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ فاٹا کی اقلیتوں کا بہت پہلے سے مطالبہ تھا کہ دیگر شہریوں کی طرح انھیں بھی قبائلی مشر کے درجے سمیت لونگی اور دیگر مراعات دی جائیں جسے بالآخر حکومت نے منظور کر لیا۔

ان کے بقول پہلے وہ ایک معمولی سے دستخط یا کسی فارم کی تصدیق کے لیے قبائلی مشران کے پاس جا کر ان کی منت سماجت کرتے تھے لیکن اب ان کی برادری کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوانے میں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا ہو گا۔

ان کے مطابق قبائلی مشر کی حیثیت سے وہ بہتر طریقے سے اپنی برادری کی نمائندگی کرسکتے ہیں اور ان کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔

ملک ولسن وزیر کا مزید کہنا تھا کہ اقلتیوں کو قبائلی ملک کا درجہ حاصل ہونے سے اب وہ قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں اور اس سے فاٹا میں تفریق کی فضا بھی ختم ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ قبائلی علاقوں میں پاکستان بننے کے بعد سے اقلتیوں کی ایک بڑی تعداد مقیم رہی ہے جن میں سکھ، ہندو اور عیسائی برادری کے لوگ شامل ہیں۔ تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ نے انھیں بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور کئی سکھ اور عیسائی خاندان قبائلی علاقے چھوڑ کر شہری علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ ان میں بہت سوں نے پنجاب اور ملک کے دوسرے شہروں میں بھی پناہ لی ہے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا میں دیگر اقلیتوں کے مقابلے میں سکھوں کی تعداد سب سے زیادہ بتائی جاتی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر عیسائی کمیونٹی کے لوگ آباد ہیں۔ قبائلی علاقوں سے متصل خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور پاکستان کا وہ شہر ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد میں سکھ آباد ہیں۔

اسی بارے میں