’محسوس ہوتا ہے جیسے کالام اس ملک کا حصہ ہی نہ ہو‘

Image caption سنہ 2010 میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے ویسے تو پوری وادی میں بڑی تباہی ہوئی تھی تاہم سب سے زیادہ نقصان وادئ کالام میں ہوا تھا جہاں کئی ہوٹل، بازار اور سڑکیں سیلابی پانی کے نذر ہوگئے تھے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حسین وادی سوات میں جولائی سنہ 2010 کو آنے والے ملکی تاریخ کے تباہ کن سیلاب کو پانچ سال پورے ہوگئے ہیں لیکن علاقے کی بیشتر وادیاں اور سیاحتی مقامات سیلاب کے تباہ کن اثرات سے پوری طرح نہیں نکل پائے ہیں۔

سنہ 2010 میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے ویسے تو پوری وادی میں بڑی تباہی ہوئی تھی تاہم سب سے زیادہ نقصان وادئ کالام میں ہوا تھا جہاں کئی ہوٹل، بازار اور سڑکیں سیلابی پانی کے نذر ہوگئے تھے۔ سیلاب کی وجہ سے بنیادی ڈھانچہ بھی شدید متاثر ہوا تھا۔

کالام کی مرکزی سڑک پانچ سال گزرنے کے باوجود بھی بدستور ٹوٹ پھوٹ اور بدحالی کا شکار ہے۔

وادئ بحرین سے کالام تک تقربناً 30 کلو میٹر کی یہ سڑک جگہ جگہ ناہموار اور پتھریلی گزرگاہوں سے گزرتی ہے جو دور دراز کے علاقوں سے آنے والے سیاحوں کے لیے مشکل اور تھکا دینے والے سفر بن جاتا ہے۔ آج بھی چھوٹی گاڑیاں اس سڑک پر 30 کی سپیڈ سے زیادہ تیز نہیں جا سکتی یں جس سے یہ محدود فاصلہ دو سے ڈھائی گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔

Image caption کالام کی مرکزی سڑک پانچ سال گزرنے کے باوجود بھی بدستور ٹوٹ پھوٹ اور بدحالی کا شکار ہے

اس کے علاوہ اس سڑک پر اکثر اوقات بارشوں کی وجہ سے پہاڑی تودے بھی گرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے گھنٹوں تک یہ گزرگاہ بند رہتی ہے اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

کالام سے واپسی پر لائیق کوٹ کے علاقے میں پہاڑی تودہ گرنے کی وجہ سے مرکزی سڑک تقربناً چھ گھنٹے تک ہر قسم کے ٹریفک کےلیے بند رہی جس سے سڑک کے دونوں اطراف سینکڑوں گاڑیاں پھنسی ہوئی تھیں۔

اس مرکزی شاہراہ کو اس لحاظ سے بھی اہمیت حاصل ہے کیونکہ سیاحوں کی جنت کہلانے والی وادئ کالام کو یہ واحد گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

سوات آنے والے بیشتر سیاحوں کو اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ اس پتھریلی اور ناہموار سڑک سے گزر کر کالام پہنچتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ جولائی سنہ 2010 میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے وادئ کالام میں بجلی اور ٹیلی فون کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا تھا جو پانچ سال گزرنے کے باوجود بھی ابھی تک بحال نہیں کیا جا سکا ہے۔

Image caption سوات آنے والے بیشتر سیاحوں کو اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ اس پھتریلی اور ناہموار سڑک سے گزر کر کالام پہنچتے ہیں

کالام کے زیادہ تر ہوٹل مالکان بجلی کے لیے جنریٹرز کا استعمال کر رہے ہیں یا بعض مقامات پر مقامی طور پر بجلی پیدا کی جاتی ہے جسے ضرورت کے مطابق استعمال میں لایا جا رہا ہے تاہم ہوٹل مالکان کے مطابق جنریٹر کا استعمال بجلی کے مقابلے میں انتہائی مہنگا پڑتا ہے۔

علاقے میں ٹیلی فون لائن اور انٹرنیٹ کا بھی کوئی تصور موجود نہیں۔

کالام میں نیو ہنی مون ہوٹل کے مالک افضل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہوٹل مالکان نے سوات میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے لیکن بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے انھیں اس طرح کا منافع نہیں مل رہا جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔

’آپ اندازہ کریں کہ 21 ویں صدی میں کالام جیسی جنت نظیر وادی سڑک، بجلی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، ایسا محسوں ہوتا ہے کہ جیسے ہم پتھر کے زمانے میں رہ رہیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ان تمام تر مشکلات کے باوجود بھی ملک کے کونے کونے سے سیاح کالام کا رخ کر رہے ہیں۔

سیلاب کی وجہ سے کالام بازار کا آدھا حصہ پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے علحیدہ ہوگیا تھا جسے بدستور بحال نہیں کیا جا سکا ہے۔ کالام کا تنگ بازار بدستور ویرانی کا منظر پیش کرتا ہے جہاں پیدل چلنا بھی محال ہے۔

کالام کے مقامی صحافی رحمت دین صدیقی کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، عمران خان، خیبر پختونخوا کے سابق وزرا سمیت ملک کے تمام اہم سیاسی رہنما وقتاً فوقتاً علاقے کا دورہ کرتے رہے اور اس دوران ان کی جانب سے مسائل حل کرانے کے بڑے بڑے وعدے بھی کیے گئے لیکن ان پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

انھوں نے کہا کہ کالام کے عوام اب حکمرانوں کے جھوٹے وعدوں سے مایوس ہو چکے ہیں اور کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کالام اس ملک کا حصہ ہی نہ ہو۔

ان کے بقول اگر علاقے کے بنیادی مسائل حل نہیں کرائے گئے تو پھر عوام کے پاس احتجاج کے علاوہ اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔

اسی بارے میں