’چارگھنٹوں کا سفر چار ماہ پر محیط‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملزمہ آیان علی کو 14 مارچ کو اسلام آباد کے بےنظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے اُس وقت گرفتار کیا گیا

ماڈل آیان علی کو جمعرات کے روز راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہائی مل ہی گئی اگرچہ لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے اُن کی ضمانت کی درخواست منگل کے روز ہی منظورکر لی تھی۔

تاہم اُن کی رہائی میں 48گھنٹوں کی تاخیر عدالتی فیصلہ، ضمانتی مچلکے اور پھر روبکار جاری ہونے اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرنے میں لگی۔

جمعرات کو روبکار جاری ہونے کے بعد آیان علی کے وکلا اُن کو لینے اڈیالہ جیل پہنچ گئے تھے، تاہم اُنھیں شام کے وقت دیگر قیدیوں کے ہمراہ رہا کیا گیا جن کی رہائی کے احکامات مختلف عدالتوں کی طرف سے دیے گئے تھے۔

آیان علی کو لینے کے لیے اُن کا بھائی علی اڈیالہ جیل میں موجود تھا اور آیان علی جیل کی حدود کے اندر سے ہی گاڑی میں بیٹھ گئیں جبکہ اُن کی گاڑی کو جیل کے ملازمین کی رہائشی کالونی والے گیٹ سے نکالا گیا۔

جیل کے باہر آیان علی کی فوٹیج بنانے کے لیے مقامی میڈیا کی ایک خاصی تعداد موجود تھی۔

واضح رہے کہ ملزمہ آیان علی کو 14 مارچ کو اسلام آباد کے بےنظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ پانچ لاکھ امریکی ڈالر لے کر دوبئی جارہی تھیں۔

پاکستانی قوانین کے مطابق کوئی بھی شخص دس ہزار امریکی ڈالر تک مالیت کی کرنسی اپنے ساتھ بیرون ملک لے کر جاسکتا ہے۔

اسلام آباد سے دوبئی جانے والی پرواز کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے چار گھنٹے لگتے ہیں جبکہ ملزمہ کو جیل سے رہائی کے لیے چار ماہ سے زائد کا عرصہ لگ گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تاہم جیل انتظامیہ نے اس بیرک کے باہر جیل کے ایسے اہلکاروں کو تعینات کیا تھا جو مذہبی رجحان نہ رکھتے ہوں

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کی انتظامیہ نے آیان علی کو جیل میں بی کلاس دی ہوئی تھی اور جیل مینوئل کے تحت اس میں ملزمہ کو ایک مشقتی بھی دیا جاتاہے۔

تاہم جیل انتظامیہ نے اس بیرک کے باہر جیل کے ایسے اہلکاروں کو تعینات کیا تھا جو مذہبی رجحان نہ رکھتے ہوں۔

چار ماہ سے زائد عرصہ اڈیالہ جیل میں رہنے کے دوران جہاں ملزمہ خود رہائی کے لیے بے چین تھیں وہاں پر جیل انتظامیہ کے لیے بھی اُن کی موجودگی ایک امتحان سے کم نہیں تھی۔

ہائی پروفائل کیس اور پھر میڈیا پر اس کو کوریج ملنے کی وجہ سے جیل کے حکام اس ’خاص قیدی‘ کے لیے جیل مینوئل پر پابندی کرنے پر مجبور تھے۔

اس کے علاوہ جیل کی سکیورٹی کے لیے جیل کے اندر اور باہر سکیورٹی فورسز کےاہلکار بھی موجود رہتے ہیں۔

اڈیالہ جیل کے حکام کے مطابق آیان علی کی گرفتاری کے بعد چند روز تک اُن کے لیے باہر سے کھانا ضرور آتا رہا لیکن اس کے بعد اُنھوں نے جیل کے اندر کنٹین سے ہی کھانا منگوایا بلکہ متعدد بار اُنھوں نے قیدیوں کے لیے پکا ہوا کھانا بھی کھایا۔

آیان علی کی گرفتاری کے بعد متعقلہ عدالت میں12 سے زیادہ پیشیاں ہوچکی ہیں اور اُن کی پیشی کے موقع پر جہاں اُن کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکار بن سنور کر آتے تھے تو وہیں وکلا برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد بھی آیان علی کی جھلک دیکھنے کے لیے کمرہ عدالت میں موجود ہوتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption مقامی میڈیا اس مقدمے سے متعلق ہونے والی عدالتی کارروائی کی خبریں کم جبکہ آیان علی کے لباس کے بارے میں زیادہ خبریں دیتا رہا

مقامی میڈیا اس مقدمے سے متعلق ہونے والی عدالتی کارروائی کی خبریں کم جبکہ آیان علی کے لباس کے بارے میں زیادہ خبریں دیتا رہا۔

آیان علی پر اس مقدمے میں فرد جرم 27جولائی کو مقرر کر رکھی ہے اور اس دن ملزمہ کی عدالت میں حاضری ضروری ہے کیونکہ عدم موجودگی میں ملزم پر فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی۔

دوسری جانب راولپنڈی پولیس نے ماڈل اور ادکارہ مشی خان کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

یہ مقدمہ تھانہ نیوٹاؤن میں درج کیاگیا ہے جس میں مشی خان پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ایک خاتون کو جعلی چیک دیا تھا۔

مقامی عدالت نے اُن کی عبوری ضمانت میں 30جولائی تک کی توسیع کردی ہے۔

اسی بارے میں