ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر فائرنگ، چار پاکستانی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر گذشتہ کچھ ماہ سے حالات کشیدہ رہے ہیں (فائل فوٹو)

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی بلا اشتعال فائرنگ سے چار پاکستانی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ کے یہ واقعات ورکنگ باؤنڈری پر چپرار سیکٹر اور لائن آف کنٹرول کے نزدیک نیزہ پیر کے مقامات پر پیش آئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے چپرار سیکٹر میں بدھ کو رات گئے فائرنگ کی۔

اس فائرنگ سے ملانا اور صالح پور نامی دیہات سے تعلق رکھنے والے تین شہری غلام مصطفیٰ، راحت اور بوٹا ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ سے پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر بھی راولا کوٹ کے نزدیک نیزہ پیر سیکٹر میں جمعرات کو بھارتی فوج نے بلااشتعال فائرنگ کی جس سے 18 سالہ زرینہ بی بی ہلاک ہو گئیں۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی افواج کی جانب سے فائر بندی کی خلاف وزری کرتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ پر اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کر کے احتجاج بھی کیا گیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق چپرار سیکٹر میں بھارت کی سرحدی سکیورٹی فورس کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ بدھ کی شب ڈیڑھ بجے شروع ہوا اور جمعرات کی صبح پانچ بجے تک جاری رہا۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی فائرنگ کے جواب میں علاقے میں تعینات پاکستانی فوجیوں نے بھی جوابی کارروائی کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption آئی ایس پی آر کے مطابق اس ڈرون کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ایل او سی کے قریب بھمبھر کے مقام پر تباہ کیا گیا

دوسری جانب بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کنٹرول لائن پر پاکستانی جانب سے فائرنگ میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پی ٹی آئی کے مطابق پاکستانی رینجرز نے بدھ کو بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ کی تھی جس سے بی ایس ایف کا ایک جوان زخمی ہوا تھا۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فائرنگ اور پاکستانی علاقے میں بھارتی ڈرون کی پرواز کے معاملے پر جمعرات کو بھارتی ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ طلب کیا گیا جہاں پاکستانی سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد نے ان واقعات پر احتجاج ریکارڈ کروایا۔

بیان کے مطابق بھارتی ہائی کمشنر کو بتایا گیا کہ بھارتی ڈرون کی پاکستانی حدود میں پرواز، عالمی قوانین اور پاکستانی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن خطے کے امن کے لیے ضروری ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ فائر بندی کے سنہ 2003 کے سمجھوتے پر عمل کیا جائے۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج نے گذشتہ روز ہی لائن آف کنٹرول پر مبینہ طور پر جاسوس کرنے والا بھارتی ڈورن مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس ڈرون کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ایل او سی کے قریب بھمبھر کے مقام پر تباہ کیا گیا۔

بھارت میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی آئی ہے تاہم حال ہی میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے روس میں ایک ملاقات میں کشیدگی کے خاتمے اور بات چیت کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

اسی بارے میں