آسیہ بی بی کی اپیل سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC urdu
Image caption آسیہ بی بی کو 2010 میں صوبہ پنجاب کے ضلع ننکانہ کی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی اور وہ پاکستان میں یہ سزا پانے والی پہلی غیر مسلم خاتون ہیں

سپریم کورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے میں غیر مسلم خاتون آسیہ بی بی کو لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی موت کی سزا پر عمل درآمد روک دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک ملزمہ کی طرف سے دائر کی گئی اپیل پر فیصلہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک سزائے موت پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لاہور کی رجسٹری برانچ میں آسیہ بی بی کی طرف سے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

ملزمہ کے وکیل ایڈووکیٹ سیف الملوک اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عالیہ نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے حقائق کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کی موکلہ گذشتہ چھ سال سے ڈیتھ سیل میں پڑی ہوئی ہیں جو نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی کے زمرے میں آتا ہے بلکہ انصاف کے تقاضے بھی پورے نہیں ہوتے۔

ایڈووکیٹ سیف الملوک کا کہنا تھا کہ ملکی قانون میں بھی یہ بات واضح کی گئی ہے کہ کسی بھی مقدمے میں اگر عدالت عظمیٰ یہ سمجھے کہ اس مقدمے کے تمام پہلوؤں کا احسن طریقے سے جائزہ نہیں لیا گیا تو اس مقدمے کا دوبارہ جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

اس درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے ان کی درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے آسیہ بی بی کو دی جانے الی سزائے موت پر عمل درآمد معطل کردیا ہے۔

آسیہ بی بی ان دنوں ملتان کی خواتین کی جیل میں قید ہیں اور اُن کے وکیل کے بقول اُن کی موکلہ اس جیل میں زیادہ محفوظ ہیں۔

سماعت کے دوران اس مقدمے کے مدعی اور ننکانہ صاحب کی مسجد کے امام محمد سالم بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ مدعی مقدمہ نے اپیل کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔

ایڈووکیٹ سیف الملوک کے مطابق اس مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج میں سعید الرحمٰن فرخ مدعی مقدمہ کے وکیل ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ اکتوبر میں لاہور ہائی کورٹ نے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف توہین رسالت کی ملزم مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی اپیل خارج کر دی ہے۔

آسیہ بی بی کو 2010 میں صوبہ پنجاب کے ضلع ننکانہ کی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی اور وہ پاکستان میں یہ سزا پانے والی پہلی غیر مسلم خاتون ہیں۔

جسٹس انوار الحق اور جسٹس شہباز رضوی پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے جمعرات کو اپیل پر اپنے فیصلے میں مقامی عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کو برقرار رکھا۔

ملزمہ کے وکیل شاکر چوہدری کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے۔

پانچ بچوں کی ماں آسیہ بی بی نے ہائی کورٹ میں اپنی اپیل میں موقف اختیار کیا تھا کہ مقامی عدالت نے توہین رسالت کے جرم میں سزا سناتے وقت حقائق کو نظر انداز کیا اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے انہیں سزا سنا دی تھی جو قانون کی نظر میں قابل پذیرائی نہیں ہے۔

آسیہ کے خلاف جون 2009 میں توہین رسالت کے الزام میں درج مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN
Image caption آسیہ کے خاوند اور دیگر اہلِ خانہ کی جانب سے بھی ہراساں کیے جانے کے الزامات سامنے آئے تھے

ملزمہ نے اپنے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ بیان دیا تھا کہ ان پر اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور انکار کرنے پر یہ مقدمہ درج کروا دیا گیا۔

پاکستان میں توہین مذہب کا قانون ایک حساس معاملہ ہے۔ ماضی میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور اقلیتیوں کے وزیر شہباز بھٹی کو اس قانون میں ترمیم کے لیے آواز اٹھانے پر قتل کیا جاچکا ہے۔

سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی کو سزائے موت کی سزا سنائے جانے کے بعد ان سے ملاقات بھی کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی کو بے گناہ قرار دیا تھا اور تجویز دی تھی کہ توہین رسالت کے قانون پر نظر ثانی کی جائے۔

آسیہ بی بی سے ملاقات کے کچھ عرصے بعد ہی سلمان تاثیر کو ان کے اپنے محافظ نے اسلام آباد میں فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا اور اپنے اس اقدام کی وجہ سلمان تاثیر کے توہینِ رسالت کے قانون کے بارے میں بیان کو قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں