بارشوں اور سیلاب سے درجن سے زیادہ ہلاک، ساڑھے تین لاکھ متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کراچی میں اگلے چند دنوں میں مون سون کی مزید بارشوں کے نتیجے میں اربن فلڈ یا شہری سیلاب آ سکتا ہے

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کا کہنا ہے کہ ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ایک درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے آفت زدہ ضلع چترال کے کئی علاقوں سے زمینی رابطہ جمعرات کو بھی بحال نہیں ہو سکا ہے۔

ادھر ملک میں سیلاب کی پیشنگوئی کرنے والے ادارے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چار سے پانچ دنوں کے دوران سندھ اور بلوچستان میں مون سون کی شدید بارشوں سے شہری علاقوں میں بھی سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

حکام کے مطابق سیلاب کے باعث چترال میں تین، صوبہ پنجاب میں تین اور صوبہ بلوچستان میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے بی بی سی کی نامہ نگار سارہ حسن سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بالائی چترال میں تقریباً دو لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ گرم چشمہ میں متاثرین کی تعداد 60 ہزار اور وادی کیلاش میں 25 ہزار ہے اور اگر فوری طور پر رابطہ سڑکوں کو بحال نہیں کیا گیا تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

این ڈی ایم کے مطابق سیلاب کے بعد آفت زدہ قرار دیے جانے والے خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں بالائی چترال، وادی کیلاش اور گرم چشمہ سے زمینی رابطہ تاحال بحال نہیں ہو سکا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق چترال میں گلیشیئر میں بنی ندیوں کے پھٹنے اور اس کے ساتھ طغیانی آنا غیر معمولی ہے تاہم موسمی تبدیلی کی وجہ سے صوبے کے شمالی اضلاع میں ایسے واقعات ہوتے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق چترال میں 30 دیہاتوں کو نقصان پہنچا ہے اور 15 پل سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں جبکہ رابطہ سڑکوں کے علاوہ 20 اہم سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی آپریشن جاری ہے اور چترال میں سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے بھی خوراک، ادویات اور خیمے پہنچائے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP ISPR
Image caption این ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ بارشوں کے باعث اب تک ملک بھر میں کم سے کم 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں

گذشتہ روز بدھ کو وزیراعظم نواز شریف نے سیلاب سے متاثرہ چترال کا دورہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے امدادی کاموں کے لیے 50 کروڑ روپے کی رقم کا اعلان کیا ہے اور اتنی ہی امدادی رقم خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت دے گی۔

این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب میں بھی سیلاب کی وجہ سے 320 دیہاتوں کو نقصان پہنچا ہے اور 72 ہزار 848 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ضلع لیہ میں 70 گاؤں، راجن پور میں 50 اور مظفرگڑھ کے 10 گاؤں زیرِ آب آئے ہیں۔

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے جمعرات کو راجن پور میں سیلاب سے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور انتظامیہ کو فوری طور پر امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے۔

کراچی میں شہری سیلاب کا خطرہ اور بلوچستان میں سیلابی ریلے

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ سندھ میں کراچی سمیت دیگر شہروں میں شدید بارش کی وجہ سے اربن فلڈ یا شہری سیلاب اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں شدید بارش سے ندی نالوں میں طغیانی کا امکان ہے۔

حکام نے متعلقہ محکموں سے کہا ہے کہ بارش کے بعد ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ کراچی میں اگلے چند دنوں میں مون سون کی مزید بارشوں کے نتیجے میں اربن فلڈ آ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم نے 124 امدادی کیمپ لگائے ہیں

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق محکمہ موسمیات نے سندھ میں جمعرات سے اکثر مقامات پر بارش کا امکان ظاہر کیا ہے، جس کے دوران زیریں سندھ بلخصوص کراچی، حیدرآباد اور میر پور خاص ڈویزن میں کہیں کہیں موسلادھار بارش کی پیشنگوئی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارش کے باعث کراچی، حیدرآباد میں شہری سیلاب کا خطرہ ہے، جہاں لوگوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔

کراچی کی انتظامیہ نے شہر میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے خطرے کے پیش نظر برساتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم ندیوں اور نالوں پر بنی ہوئی غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کوئی کارروائی شروع نہیں کی گئی ہے۔

دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات نثار احمد کھوڑو کا کہنا ہے کہ کشمور سے لیکر کوٹری ڈاؤن اسٹریم تک دریائے سندھ کے حفاظتی پشتوں کے 46 مقامات کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

نثار کھوڑو نے نیا قلمدان ملنے کے بعد پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ دریائے سندھ میں جہاں جہاں شگاف پڑے تھے ان مقامات پر پتھر بھی ذخیرہ کردیا گیا ہے تاکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں پانی کا مقابلہ کرنے کے لیے دریا میں ڈالا جا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ پنجاب سے 5 سے 6 لاکھ کیوسک پانی کی آمد متوقع ہے، اس وقت 4 سے چار سے ساڑھے چار لاکھ کیوسک پانی رواں دواں ہے۔

بقول ان کے گڈو سے اگر 6 لاکھ کیوسک پانی کی آمد ہوتی ہے تو سکھر بیراج تک پہنچتے پہنچتے یہ مقدار ساڑھے 5 لاکھ کیوسک رہ جائے گی، جو سنہ 2010 کے سیلاب کے مقابلے میں 50 فیصد کم ہے۔

نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ گزشتہ 5 سالوں میں کوئی سیلاب نہیں آیا اس عرصے میں دریا کے حفاظتی بندوں کو مضبوط بنایا گیا ہے اور خاص طور پر وہ مقامات جو زیادہ متاثر ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رواں سال مون سون میں بلوچستان کے مجموعی طور پر 20اضلاع کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے

کوئٹہ سے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نے صوبہ بلوچستان کے 32 میں سے 20اضلاع کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

جمعرات کو کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ کی صدارت میں ہوا جس میں متوقع بارشوں کے حوالے سے غوروخوض کیا گیا۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ رواں سال مون سون میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے جس سے بلوچستان کے مجموعی طور پر 20اضلاع کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس ضمن میں نصیر آباد، جعفرآباد، صحبت پوراور جھل مگسی انتہائی حساس اضلاع ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سبی، ژوب، موسیٰ خیل، لورالائی، بارکھان، کوہلو، ہرنائی، کچھی، گوادر، لسبیلہ، خضدار، ڈیرہ بگٹی، زیارت، قلعہ سیف اللہ، شیرانی اور قلات حساس اضلاع میں شامل ہیں۔

پی ڈی ایم نے سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور متاثرین کو فوری امداد پہنچانے کے لیے 6امدادی مراکز قائم کر دیے ہیں۔

متاثرین کو فوری طور پر اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے لیے متعلقہ کمشنرز کو ایک ایک کروڑ روپے جبکہ ڈپٹی کمشنرز کو 50 پچاس لاکھ روپے فراہم کئے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ پی ڈی ایم نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کر لی ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اے نے اجلاس کو ممکنہ سیلابی خطرے سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

اسی بارے میں