صحرائے تھر مصری گِدھوں کی پناہ گاہ

Image caption ’مردار خور پرندے کے تحفظ کے لیے تھرپارکر کے ماڈل کو دوسرے علاقوں میں متعارف کرانے کی ضرورت ہے‘

پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گدھ کو نایاب ہوئے کئی برس گزر گئے مگر صحرائے تھر ملک کا وہ واحد علاقہ ہے جہاں آج بھی نہ صرف گدھ باقی ہیں بلکہ تازہ ترین سروے کے مطابق ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ضلع تھرپارکر کے صدر مقام مٹھی کے اطراف بلدیہ کی جانب سے کچرہ اور مردہ جانور ٹھکانے لگانے کے لیے بنائی گئی جگہوں پر اور فضا میں جابجا آپ کو سفید اور بھورے مصری گدھ نظر آتے ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں خطرے سے دوچار ہے۔

مصری گدھ نسبتاً چھوٹی جسامت کے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے دوسرے علاقوں میں بھی یہ تقریباً ناپید ہو چکے ہیں مگر صحرائے تھر میں ان کی کوئی کمی نہیں۔

جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ علاقے کا سازگار ماحول ہے۔

راجہ شرما محکمہ جنگلی حیات اور عالمی ادارے ’ڈبلیو ڈبلیو ایف‘ کے رضاکار کے طور پر علاقے میں نایاب جانداروں کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پچھلے سات آٹھ سالوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ مٹھی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مصری گدھوں کی تعداد بڑھی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مٹھی میں ایک تو ان کی خوراک وافر مقدار میں موجود ہے اسی لیے دوسرے علاقوں سے بھی مصری گدھ یہاں آ رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ پہلے جو لمبی چونچ والے گدھ ہوتے تھے وہ ان سے جسامت میں بڑے تھے اور انھوں برداشت نہیں کرتے تھے۔ اُن کی نسل چونکہ یہاں سے ختم ہوگئی ہے اس لیے اب مصری گدھ یہاں آزادی سے رہ سکتے ہیں۔‘

دس سے بارہ برس پہلے تک پاکستان کے بیشتر شہر اور قصبے میں گدھ پائے جاتے تھے مگر اب پاکستان بھر میں گدھوں کی مقامی نسلیں تقریباً ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ بیمار جانوروں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا ڈائکلوفینک سوڈیم بنی جس پر حکومت نے بقائے ماحول کے کارکنوں کے دباؤ پر 2006 میں پابندی لگادی تھی۔

گدھ کی دو اور نسلیں بھی اب اسی صحرا کے علاقے ننگر پارکر میں بچی ہیں۔ انھوں لمبی چونچ والے گدھ اور سفید پشت والے گدھ کہا جاتا ہے۔

ننگر پارکر بھارت اور پاکستان کی سرحد پر رن آف کچھ کے قریب واقع ہے۔ وہاں پارکر فاؤنڈیشن نامی غیرسرکاری تنظیم گدھوں کی ان دونوں نایاب نسلوں کو بچانے کی کوششیں کر رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان گدھوں کی تعداد میں حالیہ برسوں میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

Image caption پارکر فاؤنڈیشن کے ایک رضاکار ڈاکٹر لچھمن جانوروں نے بتایا کہ ان کی تنظیم نے درختوں پر نمبر درج کیے ہیں تاکہ انھوں کوئی کاٹ نہ سکے۔

پارکر فاؤنڈیشن کے سربراہ رمیش نے بتایا کہ وہ علاقے کے لوگوں کے ساتھ مل کر یہ کام کرتے ہیں۔ ’ہم مال مویشی والوں کو کہتے ہیں کہ وہ ڈائکلوفینک کے بجائے اس کی متبادل دوا استعمال کریں تاکہ جب گدھ مردار کھائیں تو مریں نہیں اور جب اپنے مال مویشی چرانے کے لیے کارونجھر کے پہاڑی علاقے میں جائیں تو وہاں سفید پشت والے گدھوں کے گھونسلوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔‘

سفید پشت والے گدھ عام طور پر درختوں پر گھونسلے بناتے ہیں جبکہ لمبی چونچ والے گدھوں کا مسکن کارونجھر کا دلکش پہاڑ ہے۔

ملجی کا وانڈیا نامی گاؤں میں ایسے کئی درخت ہیں جہاں ان مردار خور پرندوں کے گھونسلے ہیں۔ کئی درختوں پر ایک یا دو اور بعض پر آٹھ سے بارہ گھونسلے نظر آتے ہیں۔

پارکر فاؤنڈیشن کے ایک رضاکار ڈاکٹر لچھمن جانوروں کے ڈاکٹر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم نے ایسے تمام درختوں پر نمبر درج کیے ہیں تاکہ انھوں کوئی کاٹ نہ سکے اور اس کام میں انھوں مقامی لوگوں کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔

’ہم گاؤں والوں سے کہتے ہیں کہ وہ ان گدھوں کے لیے پانی ڈال دیا کریں اور اگر کوئی گدھ بیمار ہوکے زمین پر گر پڑے تو اسے جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں تاکہ اسے بچایا جا سکے۔‘

Image caption ملجی کا وانڈیا نامی گاؤں میں ایسے کئی درخت ہیں جہاں ان مردار خور پرندوں کے گھونسلے ہیں

انھوں نے بتایا کہ اسی گاؤں میں چند ماہ پہلے سفید پشت والے گدھ کے ایک بچے کی ماں مرگئی جس کے بعد نئے جوڑے نے گھونسلے پر قبضہ کر لیا اور اسے گھونسلے سے گرا دیا۔ گاؤں والوں نے کئی بار اس بچے کو اٹھا کے دوبارہ گھونسلے میں رکھا مگر ہر بار اسے واپس پھینک دیا جاتا جس کے بعد پارکر فاؤنڈیشن نے اسے لاہور کے چھانگا مانگا جنگل میں واقع گدھوں کی نگہداشت کے مرکز بھجوا دیا۔

’ڈبلیو ڈبلیو ایف‘ کا کہنا ہے کہ گدھ ایک ماحول دوست پرندہ ہے اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں اس کے ناپید ہوجانے سے پورا حیاتیاتی نظام متاثر ہوا ہے۔

لاہور میں ’ڈبلیو ڈبلیو ایف‘ کی اہلکار اور حیاتیاتی تنوع کی ماہرہ عظمی خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گدھوں کا ایکو سسٹم (حیاتیاتی نظام) میں بہت اہم کردار ہے کیونکہ وہ مردہ جانوروں کو کھاتے ہیں اور ان سے جو بیماریاں پھیلتی ہیں وہ انھوں روکتے ہیں۔

’اب ظاہری بات ہے کہ جب گدھ نہیں ہوں گے تو دوسرے جانور مردار کھائیں گے۔ مثال کے طور پر اب کتے مردہ جانوروں کا گوشت کھاتے نظر آتے ہیں اور اس سے ریبیز پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح سے اب بہت سے لوگ ان مردہ جانوروں سے پولٹری فیڈ اور دوسری مصنوعات بنا رہے ہیں جو بہرحال مضرصحت ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ننگر پارکر میں 2011 میں سفید پشت والے گدھوں کے صرف 11 گھونسلے تھے مگر 2015 میں ہونے والے سروے میں یہ تعداد بڑھ کے 31 ہوگئی ہے۔

’ڈبلیو ڈبلیو ایف‘ بھی لمبی چونچ اور سفید پشت والے گدھوں کو لاہور کے چھانگا مانگا جنگل میں مصنوعی طریقے سے پال کے بچانے کی کوششیں کر رہا ہے لیکن یہ ایک طویل اور صبر آزما کام ہے کیونکہ گدھ سال میں صرف ایک ہی انڈہ دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مردار خور پرندے کے تحفظ کے لیے تھرپارکر کے ماڈل کو دوسرے علاقوں میں متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں