چترال: سیلاب سے ایک ارب روپے کا نقصان، تین لاکھ افراد متاثر

Image caption زرگران میں سیلاب سے ایک درجن مکانات اور دکانیں تباہ ہوئی ہیں۔ گھروں میں چھتوں تک کیچڑ بھرگیا تھا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شمالی ضلع چترال میں سیلاب سے اب تک کم سے کم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور تقریباً ایک ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

جمعے کی سہ پہر چترال پہنچے تو کچھ ہی دیر بعد صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے چترال کے علاقے گرم چشمہ میں پریس کانفرنس کی۔ انھوں نے بتایا کہ وقفے وقفے سے آنے والے سیلاب کے باعث اب تک چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور کم سے کم تین لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

ہماری ٹیم چترال کے علاقے زرگران میں سیلاب سے متاثرہ مکان میں موجود تھی تو اس وقت اچانک سائرن بجا کر سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی جس کے بعد سب لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔

جمعرات کی شام تک زرگران میں سیلاب سے ایک درجن مکانات اور دکانیں تباہ ہو گئی تھیں۔ گھروں میں چھتوں تک کیچڑ بھرگیا تھا۔

کریم آباد کے علاقے میں ایک نوجوان سیلابی ریلے میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا تھا جبکہ دس روز سے جاری سیلابی ریلوں سے چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Image caption دس روز سے جاری سیلابی ریلوں سے چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیلاب سے تین لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ چترال میں گرم چشمہ کیلاش وادی اور بھبوریت میں تین لاکھ افراد رابطہ سڑکیں اور پل بہہ جانے سے اپنے علاقوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ حکام کے مطابق 161 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔

فوج کے ہیلی کاپٹر یہاں چترال میں دیکھے جا سکتا ہیں۔ حکام کے مطابق ان ہیلی کاپٹروں سے ریلیف کا کام جاری ہے اور بے گھر ہونے والے افراد کو امدادی اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں خوراک بہت کم مقدار میں دی جا رہی ہے۔

چترال شہر میں زرگران کے رہائشی منور شاہ کا کہنا تھا کہ ’24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود حکومت کی جانب سے انھیں کوئی امداد نہیں دی گئی تو دور دراز علاقوں میں کیا امداد پہنچی ہوگی۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت کام کر رہے ہیں۔

چترال ضلع میں 11 اریگیشن چینلز اور61 واٹر سپلائی کی سکیمیں مکمل تباہ ہو چکی ہیں جبکہ 12 سو ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو سیلاب بہا کر لے گئے ہیں۔

Image caption چترال ضلع میں 11 اریگیشن چینلز اور61 واٹر سپلائی کی سکیمیں مکمل تباہ ہو چکی ہیں

آلو اور گندم کی فصلیں پک کر تیار ہو گئی ہیں لیکن رابطہ سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے پیدوار کو منڈیوں تک پہنچانا مشکل ہے۔

اسی بارے میں