خیبر پختونخوا میں فلڈ وارننگ سسٹم کی ضرورت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صوبہ پنجاب میں سیلاب کا جدید وارننگ نظام موجود ہے لیکن خیبر پختونخوا میں اس نظام کا کوئی وجود نہیں

پاکستان میں گذشتہ تقریباً پانچ سالوں سے آنے والے سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کی تباہ کاریوں کا سلسلہ ہر سال مسلسل بڑھتا جارہا ہے تاہم حکومت کی جانب سے موثر منصوبہ بندی کے فقدان اور روک تھام کا جدید نظام نہ ہونے کی وجہ سے ان آفات کے نقصانات کو کم نہیں کیا جاسکا ہے۔

رواں برس بھی ملک کے دو صوبے خیبر پختونخوا اور پنجاب سیلاب کی زد میں ہیں اور اب تک ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوچکے ہیں جبکہ مزید بارشوں اور سیلاب کے خطرات ابھی موجود ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موثر منصوبہ بندی اور مربوط نظام کے فقدان کے باعث نہ صرف ہر سال سیلاب اور دیگر قدرتی آفات آتے ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں ہونے والے بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصانات کو بھی کم نہیں کیا جاسکا ہے۔

پشاور یونیورسٹی میں سینٹر فار ڈیزاسسٹر پریپیرڈنس اینڈ منجمینٹ کے ڈائریکٹر اور حیاتیاتی سائنس کے شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر امیر نواز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں ہر سال لوگ قدرتی آفات کا نشانہ بنتے ہیں اور بڑا واویلا بھی کیا جاتا ہے لیکن جب خطر ٹل جاتا ہے تو اس کے بعد پھر سے ہر طرف خاموشی چھا جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ قدرتی آفات آنے کے بعد حکومت ہر سال بحالی اور تعمیر نو پر بڑی رقم خرچ کرتی ہے لیکن اگر اس رقم کا آدھا حصہ بھی پہلے خرچ کرکے مسائل کے روک تھام پر توجہ دی جائے تو کافی حد تک نقصانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔‘

ان کے مطابق صوبہ پنجاب میں سیلاب کا جدید وارننگ نظام موجود ہے جس سے بارشوں اور سیلاب کا پہلے سے پتہ چل جاتا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں اس نظام کا کوئی وجود نہیں۔

ان کے بقول دریا سندھ سے نکلنے والے مشرقی معاون دریاؤں راوی ، چناب اور دیگر چھوٹے بڑے دریاؤں میں جب سیلاب کا خطرہ ہوتا ہے تو اس کےروک تھام کےلیے پہلے سے انتظام اور منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے قدرتی آفات کے زد میں رہا ہے

پروفیسر امیر نواز خان نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن ’فلیش فلڈ‘ کے ضمن میں انتہائی حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں سیلاب اور بارشوں کی شدت پہلے سے معلوم کرنے کےلیے کوئی ریڈار سسٹم موجود نہیں جس سے اکثر اوقات نقصانات ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ لوگ ان علاقوں میں لوگ گھر بنا رہے ہیں جہاں دریا بہتے ہیں یعنی دریاؤں پر قبضہ کیا جارہا ہے اور ظاہر ہے جب تیز بارشیں ہونگی تو پھر ایسے گھر تو نہیں بچیں گے۔

پروفیسر ڈاکٹر امیر نواز خان کے مطابق پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کےلیے جو ادارے قائم ہیں وہاں پیشہ ور ماہرین کی بھی شدید کمی پائی جاتی ہے جس سے مسائل پر قابو پانے کےلیے مربوط منصوبہ بندی نہیں ہورہی۔

’ یہ تمام آفات انسان کی پیدا کردہ ہیں، اگر ہم جنگلات کو ختم نہیں کرینگے، دریاؤں پر قبضہ نہیں کرینگے ، پانی کو ذخیرہ کرنے کےلیے مناسب انتظام کریں گے اور مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کریں گے تو ایسی صورتحال میں پھر ہر قدرتی آفت سے آسانی سے نمٹا جاسکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں حکومت کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ ہر سال یہ نقصانات بڑھتے جائیں گے کم نہیں ہونگے۔

خیال رہے کہ پاکستان گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے قدرتی آفات کے زد میں رہا ہے۔ ملک میں سنہ 2005 میں آنے والے تباہ کن زلزلے کی وجہ سے تقریباً 90 ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔

اس کے علاوہ سنہ 2010 ، 2011، 2012 اور 2013 میں آنے والے ملکی تاریخ کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے بھی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور بنیادی ڈھانچے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔

اسی بارے میں