اقتصادی راہداری منصوبہ: انفراسٹرکچر دو سال میں مکمل کرنے کی ہدایت

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption اس پیش رفت کے بارے میں وزیراعظم کو بریفینگ منصوبہ بندی اور ترقیات کے وفاقی وزیر کی جانب سے دی گئی

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے چین کے تعاون سے بننے والے چین، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے متعلق انفراسٹرکچر کے تمام منصوبے سنہ 2017 تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسلام آباد میں راہداری منصوبے کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے متعلقہ سرکاری اداروں کو ہدایت دی کہ راہداری سے متعلق تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مالی اور تکنیکی وسائل کی فراہمی میں کمی نہیں آنی چاہیے۔

اس اقتصادی راہداری منصوبے کے لیے 42 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط چینی صدر شی جن پنگ کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران ہوا تھا۔ اس منصوبے کے ذریعے چین کے شہر کاشغر کو پاکستانی ساحلی شہرگوادر کے ساتھ سڑکوں اور ریل کے ذریعے منسلک کیا جائےگا۔

حکومت کے ابتدائی اہداف کے مطابق اس راہداری کا مغربی روٹ جو کہ بلوچستان کے راستےگزرنا تھا، کو سنہ 2018 میں مکمل ہونا تھا۔ تاہم سوموار کے روز ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نے اس منصوبے کو مکمل کرنے کے ہدف کو ایک سال کم کر دیا ہے۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیراعظم نے یہ بات راہداری منصوبے پر اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد کہی۔

اس پیش رفت کے بارے میں وزیراعظم کو بریفینگ منصوبہ بندی اور ترقیات کے وفاقی وزیر احسن اقبال کی جانب سے دی گئی۔

احسن اقبال نے وزیراعظم کو بتایا کہ اس منصوبے سے متعلق بہت سے تعمیراتی منصوبے وقت سے پہلے تکمیل کی طرف جا رہے ہیں ان میں اہم شاہراہیں اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔

اسی بنا پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ شاہراہ قراقرم پر عطا آباد جھیل کے قریب بننے والی سرنگ کا افتتاح اگست کے آخری ہفتے میں کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption اس اقتصادی راہداری منصوبے کے لیے 42 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط چینی صدر شی جن پنگ کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران ہوا تھا

وزیراعظم کو بتایا گیاکہ پشاور سے کراچی موٹر وے کے بیشتر سیکشنز پر کام کا افتتاح کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سکھر، ملتان سیکشن، گوجرہ، خانیوال سیکشن اور لاھور عبدالحکیم سیکشن شامل ہیں۔

وزیراعظم کو گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے اور سڑکوں کے بعض دیگر منصوبوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی اور ان پر کام کی رفتار کو سراہا گیا۔

اس سے پہلے پاکستانی فوج نے سنیچر کے روز بتایا تھا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت صوبہ بلوچستان میں بننے والی سڑکوں میں سے 70 فیصد پر کام مکمل ہو چکا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستانی فوج کے تعمیراتی ادارے ایف ڈبلیو او گوادر کو کاشغر سےملانے والی شاہراہ پر صوبہ بلوچستان میں پانچ مقامات پر سڑکیں تعمیر کر رہی ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 870 کلو میٹر میں سے 502 کلومیٹر پر کام مکمل کیا جاچکا ہے۔ یہ شاہراہیں گوادر پورٹ کو ملک کے دیگر حصوں سے منسلک کریں گی۔

واضح رہے کہ چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے پر دستخط پچھلے سال اگست میں ہونا تھے لیکن اسلام آْباد میں پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی دھرنے کے باعث چینی صدر کا دورہ ملتوی کر دیا گیا تھا۔

تاہم چین اور پاکستان کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کے بعد اس منصوبے پر تعمیر کا آغاز منصوبے پر باضابطہ دستخطوں سے پہلے ہی شروع کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں