گجرات میں پولیس چوکی پر حملہ، دو حملہ آور ہلاک

Image caption جس علاقے میں حملے کا نشانہ بننے والی پولیس کی چوکی واقع ہے وہاں پر بہت بڑا جنگل ہے (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر گجرات میں پولیس نے چوکی پر حملہ کرنے والے دو شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ حملہ آوروں کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

گجرات کے ضلعی پولیس افسر رائے ضمیر الحق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ شدت پسندوں نے بدھ کی شب گوٹھریالا میں واقع پولیس کی چوکی پر اس وقت حملہ کیا جب چوکی انچارج پولیس کی نفری کی گننتی کرنے اور پولیس اہلکاروں کو گشت پر بھیجنے میں مصروف تھے۔

مقامی پولیس کے مطابق رات کی تاریکی میں شدت پسندوں کے حملے کی وجہ سے شدت پسندوں کی تعداد معلوم نہیں ہو سکی تاہم پولیس کی جوابی فائرنگ سے دو شدت پسند مارےگئے جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

زخمیوں میں سے ایک پولیس اہلکار کی حالت تشویش ناک بیان کی جاتی ہے اور اسے علاج کے لیے لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔

آخری اطلاعات آنے تک پولیس اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا اور پولیس کا دعوی ہے کہ شدت پسندوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔

ضلعی پولیس افسر کے مطابق رات کی تاریکی کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات درپیش ہیں تاہم سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے اضلاع سے بھی پولیس کی نفری طلب کر لی گئی ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق جس علاقے میں حملے کا نشانہ بننے والی پولیس کی چوکی واقع ہے وہاں پر بہت بڑا جنگل ہے اور اس چوکی کی حدود پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ساتھ بھی ملتی ہیں۔

پولیس کے مطابق اس علاقے میں کچھ شدت پسند جماعتوں کے مسلح گروہ بھی چھپے ہوئے ہیں اور یہ ایسا علاقہ ہے جہاں پر دن کی روشنی میں بھی کارروائی کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

مقامی پولیس نے اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا کہ شدت پسندوں کا یہ حملہ کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی کے بانی و سابق امیر ملک اسحاق اور دیگر رہنماؤں کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کا ردعمل ہو سکتا ہے۔

ملک اسحاق کو بدھ کی صبح ہی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں پولیس کی ایک کارروائی کے دوران ان کے 14 ساتھیوں کے ہمراہ ہلاک کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں