وزیراعظم کا ایم کیو ایم،جے یو آئی سے قرارداد واپس لینے پر اصرار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزیر اعظم نے ایم کیوایم اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت کو قومی اسمبلی سے قراردادیں واپس لینے پر آمادہ کرنے کے لیے چار رکنی ٹیم بھی تشکیل دی ہے

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے ارکان کی پارلیمانی رکنیت ختم کرنے کے بارے میں قراردادیں واپس لے لیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے یہ بات بدھ کو اسلام آباد میں پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے دونوں جماعتوں پر زور دیا کہ وہ قومی اسمبلی میں اپنی قراردادوں پر ووٹنگ پر اصرار نہ کریں۔

اس اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات پرویز رشید نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیرِ اعظم کے اصرار پر دونوں جماعتوں کے قائدین نے انھیں بتایا کہ وہ پارٹی کی سطح پر مشاورت کے بعد انھیں اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیں گے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایم کیوایم اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت کو قومی اسمبلی سے قراردادیں واپس لینے پر آمادہ کرنے کے لیے چار رکنی ٹیم بھی تشکیل دی ہے جس میں خود پرویز رشید کے علاوہ اسحاق ڈار، خواجہ سعد رفیق اور وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی شامل ہیں۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ارکان کے استعفوں کا معاملہ قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر حل کیا جائے گا

اس سے قبل منگل کو قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق پیش کی جانے والی قراردادوں پر رائے شماری چار اگست تک موخر کر دی تھی۔

یہ قراردادیں حکمراں اتحاد میں شامل جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) اور متحدہ قومی موومنٹ نے قومی اسمبلی کے ایوان میں پیش کی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ چونکہ تحریکِ انصاف کے ارکان ِاسمبلی دھرنوں کے دوران 40 دن سے زیادہ عرصے تک ایوان سے بغیر اطلاع دیے غیر حاضر رہے لہذا ان کی رکنیت ختم کی جائے اور الیکشن کمیشن ان نشستوں پر ضمنی انتخابات کروائے۔

ان قراردادوں کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے 28 اراکینِ قومی اسمبلی کے ناموں کی فہرست بھی منسلک کی گئی تھی۔

اسی بارے میں