خضدار میں ایف سی کے آپریشن میں دو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرنٹیئر کور نے ایک اور کارروائی میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سائنس کالج سے دو طالب علموں کو بھی گرفتار کیا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں فرنٹیئر کور کے آپریشن میں دو جبکہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک مقامی سیاسی رہنما ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایف سی کی کاروائی میں دو افراد کی ہلاکت کا واقعہ ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں پیش آیا اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک شخص ان کی جماعت کا فعال رہنما تھا۔

فرنٹیئر کور کے ترجمان کی جانب سے میڈیا کو جو معلومات فراہم کی گئیں ان کے مطابق یہ کارروائی جمعرات کو وڈھ کے علاقے لوپ میں کی گئی۔

ہلاک ہونے والے ایک شخص کی شناخت عبدالرحمان دینار زئی کے نام سے ہوئی ہے۔

ایف سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ ایک کالعدم تنظیم کے کمانڈر تھے اور ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ عبدالرحمان تخریب کاری کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔

تاہم اس واقعے کے حوالے سے بی این پی کے قائم مقام مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے ایک پریس کانفرنس کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ عبدالرحمان دینار زئی پارٹی کے فعال رہنما تھے اور ان کا کسی بھی عسکریت پسند تنظیم سے تعلق نہیں تھا۔

ڈاکٹر جمالدینی نے بتایا کہ بدھ اور جمعرات کی شب عبدالرحمان کے گاؤں کا گھیراؤ کیا گیا اور جب وہ اپنے گھر سے باہرنکلے تو انھیں گولی مار دی گئی۔

بی این پی کے رہنما نے بلوچستان حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر نہتے لوگوں کو مارنے کا سلسلہ جاری رہا تو یہ وزیر اعلیٰ اور ان کی پارٹی کے مستقبل کے لیے ٹھیک نہیں ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایف سی کی کاروائی میں دو افراد کی ہلاکت کا واقعہ ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں پیش آیا

فرنٹیئر کور نے ایک اور کارروائی میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سائنس کالج سے دو طالب علموں کو بھی گرفتار کیا ہے۔ ایف سی کے ترجمان کے مطابق گرفتار طالبعلموں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہے۔

ادھر پنجگور میں نامعلوم افراد کے حملے میں حکمراں جماعت نیشنل پارٹی کے ایک مقامی رہنما سرفراز ہلاک ہوئے ہیں۔

وہ یونین کونسل پروم کے وائس چیئرمین بھی تھے ۔

ضلع پنجگور کی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق نیشنل پارٹی کے رہنما کو جمعرات کو چتکان بازار میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا اور حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

نیشنل پارٹی کے رہنما کی ہلاکت کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے ہیں۔

اس کے علاوہ ایران کی سرحد سے متصل ضلع کیچ سے ایک مقامی شخص کی تشدد زدہ لاش ملی ہے۔ کیچ انتظامیہ کے مطابق لاش کی شناخت ہو چکی ہے جسے نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کرنے بعد لاش مند کے علاقے میں پھینک دی تھی۔

تاحال کسی گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں