سیلاب سے ہلاکتیں 92، سندھ میں دو لاکھ افراد کا انخلا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیلاب سے ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 92 تک پہنچ گئی ہے جبکہ تونسہ، گڈو اور سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں صوبہ خیبر پختونخوا ہوئیں جبکہ مجموعی طور پر ملک بھر میں پانچ لاکھ 91 ہزار 676 لوگ سیلاب سے متاثر ہو چکے ہیں۔

صوبہ سندھ سے اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم اگلے دو روز میں دریائے سندھ میں اونچے درجہ کے سیلاب کا امکان ہے، جس کے باعث حفاظتی بندوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ حکومت نے اس وقت تک دو لاکھ کے قریب افراد کا کچے کے علاقے سے انخلا کیا ہے جبکہ لاکھوں لوگ ابھی تک وہاں موجود ہیں۔

ادھر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے فوج کا ایک دن کا راشن سیلاب متاثرین میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامۂ کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجووہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ پیغام لکھا کہ جنرل راحیل نے یہ اعلان سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے جاری کارروائیوں کا جائزہ لیے کے لیے بلوائے گئے اجلاس میں کیا۔

Image caption فوج کی جانب سے ایک دن کا راشن سیلاب متاثرین کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے

سکھر بیراج کے کنٹرول روم کے انچارج عبدالعزیز سومرو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت گڈو بیراج پر پانی کی آمد ساڑھے 6 لاکھ کیوسک ہے جبکہ آنے والے دو روز میں یہ مقدار 7 لاکھ کیوسک تک پہنچ جائے گی۔ جس وجہ سے دریا کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔

’دریا میں پانی کی سطح جب 6 لاکھ کیوسک سے بلند ہوجائے تو صورتحال قابل تشویش ہوجاتی ہے، امکان تو یہ ہے کہ پانی کی آمد 7 لاکھ کیوسک سے تھوڑی زیادہ ہوگی لیکن اگر کوہ سلیمان پر بارشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔‘

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ کچے کے علاقے سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کا انخلا کیا گیا ہے، جن میں سے 21 ہزار افراد ریلیف کیمپس میں موجود ہیں۔

لاڑکانہ کے عاقل آگانی بند کے قریب کچے کے ممنانی گاؤں کے رہائشی محمد اسلم کا کہنا ہے کہ کچے میں اس وقت بڑا سیلاب آگیا ہے، حکام پانچ لاکھ کیوسک بتا رہے ہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ 2010 میں جتنا پانی آیا تھا اتنا ہی پانی موجود ہے۔

’کچے میں جو زمینداری بند تھے وہ اب بھی موجود ہیں یہ کوئی ایک یا دو بند نہیں بلکہ کئی سو ایکڑوں پر موجود ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کا سبب بنتے ہیں اس وقت بھی کئی لوگ پھنسے ہوئے ہیں ان کے پاس جو کشتیاں ہیں وہ ساری کمزور ہیں اگر لانچیں ہوں تو لوگوں کو جلد نکالا جا سکتا ہے۔‘

سندھ میں چار سکھر، گھوٹکی ، خیرپور اور بدین میں پاکستان نیوی کی ٹیمیں کام کر رہی ہیں جبکہ لاڑکانہ میں مدد طلب کی گئی ہے، اسی طرح گھوٹکی اور کشمور میں بندوں کی نگرانی کے لیے فوج کی مدد حاصل کی گئی ہے۔

مکین پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکام کے مطابق دریا میں پانی کی سطح جب 6 لاکھ کیوسک سے بلند ہوجائے تو صورتحال قابل تشویش ہوجاتی ہے

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ لوگوں کے انخلا میں ضلعی انتظامیہ کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ لوگ اپنی صورتحال کے خود ہی اچھے جج ہوتے ہیں جب پانی کی سطح بلند ہوتی ہے تو ایک دو لوگوں کو چھوڑ کر باقی لوگ مال مویشی کے ساتھ پکے کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں جہاں اکثریت کی اپنے گھر موجود ہیں۔ بقول اسی لیے کیمپوں میں لوگ کم آتے ہیں۔

ان کے دعویٰ کے برعکس کشمور، پیر جو گوٹھ اور دادو میں ایسے ہزاروں لوگ موجود ہیں جنہوں نے دریا کے بندوں پر پناہ لی ہوئی ہے جن میں اکثریت غریب کسانوں کی ہے۔

پیر جوگوٹھ کے کچے سے آنے والی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ’انہیں کشتیوں میں لاکر کھلے آسمان کے نیچے چھوڑ دیا گیا ہے یہاں خوراک ہے اور نہ سر چھپانے کے لیے سائباں ۔بارش میں اوپر رلی ڈال کر بچوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بچی بیمار ہوگئی ہے شوہر پہلے ہی بیمار تھا میں پریشان ہوں کہ کیا کروں۔‘

دوسری جانب زیریں سندھ کے ضلعے بدین میں سیم نالے ایل بی او ڈی کی سطح تشویش ناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس کی ڈیزائن گنجائش 4600 کیوسک ہے لیکن اس میں سے7000 کیوسک پانی کا اخراج ہو رہا ہے۔

Image caption آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب، خیبر پختونخوا اور شمالی مشرقی بلوچستان کے دریاؤں سے ملحقہ علاقوں میں گرج چمک کے بارش کی توقع ہے

ایگزیکیوٹو انجینیئر سیڈا فواد میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ ایل بی او ڈی میں دیگر برانچوں سے پانی آتا ہے وہاں لوگوں کی زمینیں موجود ہیں لوگ اپنی زیر آب زمینوں کا پانی کٹ لگاکر سیم نالوں میں ڈال رہے ہیں جو پانی پہلے سے اوور فلو ایل بی او ڈی میں آ رہا ہے جہاں اب صرف ایک فٹ کی گنجائش رہے گئی ہے۔

2011 میں بھی شدید بارشوں کے باعث ایل بی و ڈی سیم نالے کو کئی مقامات پر شگاف پڑ گئے تھے اور سمندر میں نکاسی کی بجائے اس نے الٹا بہنا شروع کر دیا تھا۔ جس کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور فصلیں زیر آب آگئیں تھیں۔

سیرانی کے قریب رہائشی محمد رمضان خاصخیلی نے بتایا’ راتو رات ایل بی او ڈی بھر جاتا ہے اور وہ بے گھر ہوجاتے ہیں۔‘

’اس وقت سیم نالے الٹے بہے رہے ہیں اور شگاف پڑ رہے ہیں جنہیں ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت ٹریکٹروں کی مدد سے بند کیا ہے۔اس دیو ہیکل نالے سے ڈر لگتا ہے ساری رات آنکھوں میں نیند نہیں ہوتی۔

ایگزیکیوٹو انجینیئر سیڈا فواد میمن کا کہنا ہے کہ ایل بی او ڈی میں اس وقت کہیں سے شگاف نہیں پڑا ہے جہاں سے اوور ٹاپ ہو رہی ہے اس پر مٹی ڈالی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق 2011 کے بعد حفاظتی بندوں کو تو بلند کیا گیا تھا لیکن ڈھانچے پر کام نہیں ہوا جو پانی کی روانی میں رکاوٹ کا سبب بن رہے ہیں۔

ادھر این ڈی ایم اے کی ویب سائٹ پر موجود تازہ ترین تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب، خیبر پختونخوا اور شمالی مشرقی بلوچستان کے دریاؤں سے ملحقہ علاقوں میں گرج چمک کے بارش کی توقع ہے۔

اسی طرح سندھ اور اور گلگت بلتستان میں بھی بارش کا امکان ہے۔ دریائے چناب، دریائے راوی اور دریائے ستلج پر صورتحال خطرے سے نیچے ہے۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش صوبہ پنجاب کے علاقے ملتان میں ریکارڈ کی گئی جو کہ 42 ملی میٹر تھی۔

اسی بارے میں