بلوچستان میں القاعدہ کے مقامی کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اس کے کمین گاہ کا پتہ لگایا‘

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکام نے القاعدہ کے ایک مقامی کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کے بعد القاعدہ نے اپنے نیٹ ورکس کو بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ایک کمین گاہ ضلع چاغی کے افغانستان سے متصل سرحدی علاقے میں بنائی گئی اور وہاں القاعدہ نے اپنے ایک کمانڈر عمر لطیف عرف لقمان کو کارروائیوں کی ذمہ داری دی تھی۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ عمر لطیف پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اس کے کمین گاہ کا پتہ لگایا اورگذشتہ روز سنیچر کو چاغی کے علاقے میں کامیاب کارروائی کی۔

انھوں نے بتایا کہ عمر لطیف دس ماہ قبل افغانستان کے صوبہ نیمروز سے وہاں منتقل ہوئے تھے۔

انہوں کہا کہ جب سکیورٹی فورسز کے اہلکار اس کمین گاہ میں داخل ہوئے تو ہلاک ہونے والے شدت پسند نے اپنی بیوی اور دو بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا لیکن سکیورٹی فورسز نے مہارت سے کارروائی کی جس میں عمر لطیف مارا گیا جبکہ اس کی بیوی اور دو بچوں کو حراست میں لیا گیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ شدت پسند کی فائرنگ سے ایک سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوا جبکہ مارے جانے والے شدت پسند کا بھائی عبیدالرحمان وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ عمر لطیف بلوچستان اور پنجاب میں القاعدہ کی تنظیم کا سربراہ تھا جبکہ اس کی بیوی طیبہ عرف فریحہ باجی ان علاقوں کی خواتین ونگ کی سربراہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ عمر لطیف اور اس کے بھائی عبیدالرحمان کے سر کی قیمت 20 20 لاکھ روپے جبکہ اس کی بیوی کی سر کی قیمت 5 لاکھ روپے مقرر تھی۔

انھوں نے کہا کہ عمر لطیف کی بیوی ہائی پروفائل اغوا کے واقعات کی جاسوسی کرتی تھی۔

انھوں نے کہاکہ وہ شدت پسندوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کو ان کی پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند اپنی کارروائیوں کو ترک کر کے قومی دھارے میں آ جائیں یا پھر وہ مارے جائیں گے۔

اسی بارے میں