’حکومت پی ٹی آئی کی حمایت میں ووٹ دے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی ٹی آئی کو بھی سنہ 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے الزامات کو واپس لینا چاہیے: اسحاق ڈار

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اگر منگل کو ایم کیو ایم کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کی رکنیت منسوخ کرنے سے متعلق قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی تو حکمران جماعت اس کی مخالفت میں ووٹ دے گی۔

پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بیان دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام بھی پاکستان تحریک انصاف کے اراکینِ قومی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے سے متعلق اپنی قرارداد واپس لے لے گی۔

انھوں نے کہا کہ وہ یہ بات وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ایما پر کہہ رہے ہیں۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کو ملنے والے مینڈیٹ کو تسلیم کرتی ہے اور وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ حزب مخالف کی جماعت پارلیمان میں اپنا کردار ادا کرے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے بھی حکومتی موقف کی تائید کی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو بھی سنہ 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے الزامات کو واپس لینا چاہیے۔

خیال رہے کہ حکمران جماعت میں ایک قابل ذکر دھڑا اس بات کے حق میں تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کی رکنیت منسوخ کرنے کے لیے ایم کیو ایم اور جے یو آئی کی جانب سے پیش کی جانے والی قراردادوں کے حق میں ووٹ دینا چاہیے، جبکہ وزیر اعظم کا یہ موقف ہے کہ کوئی نیا سیاسی محاذ نہیں کھلنا چاہیے۔

حکمراں جماعت کے رکن اسمبلی طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی ایوان میں موجودگی پاکستان مسلم لیگ ن کی مرہون منت ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اپنی قیادت سے بات کرے، انھوں نے ایم کیو ایم سے یہ قرارداد واپس لینے کی بھی درخواست کی۔

قومی اسمبلی میں قرارداد پیش ہونے کی صورت میں منگل کو اس پر رائے شماری ہوگی۔

ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں پی ٹی آئی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عدالتی کمیشن کے فیصلے کے بعد اب پی ٹی آئی کے ارکان کو ایوان میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما فیصل واوڈا نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف مبینہ ثبوت لے کر لندن پہنچے ہیں اور اطلاعات کے مطابق پیر کی دوپہر کو انھوں نے سکاٹ لینڈ یارڈ کے حکام سے ملاقات کی ہے۔

اسی بارے میں