اغوا اور قتل کے مجرم شفقت حسین کو پھانسی دے دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی گذشتہ ماہ شفقت حسین کی پھانسی پر عمل درآمد روکنے سے متعلق دائر درخواست مسترد کر دی تھی

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں اغوا اور قتل کے مجرم شفقت حسین کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

شفقت حسین کی پھانسی کے لیے پانچ مرتبہ ڈیتھ وارنٹ جاری کیے گئے اور اس سے قبل چار مرتبہ ان کی پھانسی موخر کی گئی تھی۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شفقت حسین کو ایک سات سالہ بچے کے اغوا اور قتل کے جرم میں سنہ 2004 میں مجرم قرار دیتے ہوئے انھیں موت کی سزا سنائی تھی۔

ان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ ان کا اعترافی بیان تشدد کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے اور گرفتاری کے وقت ان کی عمر صرف 14 برس تھی تاہم پاکستانی حکام کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ وہ گرفتاری کے وقت نابالغ تھے۔

حقوقِ انسانی کی مقامی اور عالمی تنظیموں کی جانب سے شفقت حسین کو موت کی سزا ملنے کے خلاف مہم بھی چلائی گئی تھی۔

شفقت حسین کو اہل خانہ سے ملاقات اور ڈاکٹر کے طبی معائنہ کے بعد سخت سکیورٹی میں منگل کی صبح پھانسی دی گئی۔

نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق پھانسی کے بعد شفقت حسین کے بھائی منظور حسین نے کہا کہ اس کیس کو درست انداز میں نہیں چلایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت عرصے سے یہی کہہ رہے تھے کہ اس کیس کو ازسرنو چلایا جائے کیونکہ نہ شفقت حسین کی عمر کی تحقیقات کی گئیں نہ کیس کی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے گذشتہ ماہ شفقت حسین کی پھانسی پر عمل درآمد روکنے سے متعلق دائر درخواست مسترد کر دی تھی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی شفقت حسین کی عمر کے تعین کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کی درخواست کو مئی میں مسترد کیا تھا۔

شفقت کی والدہ ماکھن زیدی کا کہنا تھا کہ ’وہ بہت ہی اچھا بچہ تھا کبھی شرارت نہیں کرتا تھا۔ وہ ڈرپوک بھی تھا کبھی کسی کو تنگ نہیں کرتا تھا۔ غربت میں پَلا تھا۔ مصیبت کے دن تھے اپنے بھائی کو بتائے بغیر دوسرے بچوں کے ساتھ بھاگ گیا تھا۔ ہم سمجھے تھے کہ وہ کام کرے گا اور ہمارے لیے کچھ کمائے گا۔ چار مہینے بعد پتہ چلا کہ ہمارا بچہ جیل میں ہے۔‘

ان کے مطابق ’وہاں پولیس نے اسے مارا اسے بجلے کے جھٹکے دیے ، اس کے بدن کو سگریٹ سے داغا اور اس کے جسم پر کئی جگہ زخم اور نشانات تھے۔‘

خیال رہے کہ شفقت کا نام ان 17 افراد کی ابتدائی فہرست میں شامل تھا جنھیں دسمبر 2014 میں وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کے اعلان کے بعد پھانسی دینے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں آٹھ ہزار سے زائد افراد سزائے موت کے منتظر ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے بعد سے اب تک ملک میں دو سو افراد کو پھانسی کی سزا دی جاچکی ہے جن میں سے اکثریت سزا یافتہ افراد پر دہشت گردی کا الزام تک نہیں تھا۔

اسی بارے میں