’الطاف حسین اپنی زبان کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں‘

Image caption الطاف حسین کے خلاف برطانیہ میں درج کیے گئے مقدمات سیاسی نہیں بلکہ عدالتی ہیں: وزیرِ داخلہ

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف برطانوی حکومت کو ریفرنس ملکی اور برطانوی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس بارے میں قانونی ماہرین ریفرنس تیار کرنے میں مصروف ہیں جس میں چند دن لگیں گے۔

منگل کو راولپنڈی میں پولیس دربار سے خطاب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے الطاف حسین کی تقاریر پر برطانوی حکومت کو خط لکھا گیا تھا لیکن ایم کیو ایم کے قائد کی گذشتہ دو تقاریر میں تو تمام حدیں پار کر دی گئیں۔

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کسی کو کسی طور پر بھی ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور ان اداروں کی حرمت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ الطاف حسین کے خلاف برطانیہ میں درج کیے گئے مقدمات سیاسی نہیں بلکہ عدالتی ہیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ الطاف حسین کراچی میں رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وجہ سے مشکلات کا شکار نہیں ہیں بلکہ یہ ان کی اپنی زبان ہے جس کی وجہ سے وہ مشکلات سے دوچار ہیں۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے مقدمے میں ان کی حکومت نے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم سے تعاون کیا جس کا اعتراف برطانوی حکومت نے بھی کیا ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی گذشتہ حکومت نے اس اہم مقدمے میں برطانوی حکومت کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے مقدمے میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کو ایک ملزم تک رسائی کی اجازت نہیں دی جبکہ اس سے پہلے یہ ٹیم اس مقد مے میں دو ملزمان سے تفتیش کر چکی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق ان دو ملزمان میں معظم علی اور خالد شمیم شامل ہیں جبکہ محسن علی سے تفتیش کی ابھی تک اجازت نہیں دی گئی۔

اہلکار کے مطابق ملزم محسن علی پر الزام ہے کہ وہ ان دو افراد میں شامل ہیں جنھیں ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرنے کے لیے برطانیہ بھیجا گیا تھا۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ تیسرے ملزم تک رسائی دینے میں کچھ قانونی پچیدگیاں ہیں جنھیں جلد ہی دور کر لیا جائے گا۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف مقدمات پر سیاست چمکانے سے اس مقدمے پر منفی اثر پرے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سے بھی بات ہوئی تھی جس میں انھوں نے اتفاق کیا تھا کہ اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے جبکہ اس کے برعکس اسی جماعت کے مقامی رہنما لندن میں مظاہرے کر رہے ہیں۔

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان چار سال قبل بھی الطاف حسین کے خلاف مبینہ ثبوت لے کر برطانیہ گئے تھے تاہم ان ثبوتوں پر تو ابھی تک برطانوی حکام نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

اسی بارے میں