خیبر پختونخوا میں ہفتہ شہدائے پولیس

Image caption مینگورہ میں جگہ جگہ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تصاویر کے سائن بورڈ لگائےگئے ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں ہفتہ شہدائے پولیس منایا جا رہا ہے جس کا مقصد ان پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔

پاکستان میں گذشتہ 15 سالوں میں خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کے مختلف واقعات کے دوران کانسٹیبل سے ایڈیشنل آئی جی تک 7,500 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جس میں زیادہ کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔

تین سال تک طالبان کے زیرِ تسلط رہنے والے وادئ سوات میں پہلی بار پولیس نے بازاروں اور مختلف چوراہوں پر کیمپ لگائے جس میں مختلف طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے تاثرات قلمبند کیے۔

مینگورہ میں جگہ جگہ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تصاویر کے سائن بورڈ لگائےگئے ہیں۔

سوات میں جہاں ایک طرف لوگوں کی اکثریت پولیس فورس کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی اور انھیں خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے تو دوسری جانب بعض لوگ سوات میں طالبان کی آمد اور ان کے ہاتھوں علاقے میں ہونے والے تباہی کا ذمہ دار پولیس فورس کو ہی ٹھراتے ہیں۔

بیشتر افراد کا کہنا ہے کہ اگر پولیس شروع ہی سے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کرتی اور طالبان کو اس وقت ایک مضبوط قوت بننے نہ دیتی تو نہ ہزاروں عام شہری ہلاک نہ ہوتے۔

Image caption حکام کے مطابق خیبر پختونخواہ میں 155 جبکہ ملاکنڈ ڈویژن میں 250 سے زائد پولیس اہلکار ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہوئے

مینگورہ میں ایک شخص نے بتایا کہ شورش کے دوران سوات میں بعض پولیس اہلکاروں نے مقابلہ کرنے کی بجائے نوکریاں چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی جس سے نہ صرف دیگر پولیس اہلکاروں کے حوصلے پست ہوئے بلکہ دہشت گردوں کے عزائم کو تقویت ملی اور اس وجہ سے سوات کو ایک خونریز دور کا سامنا کرنا پڑا۔

سوات میں سپیشل پولیس فورس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سوات میں سپیشل فورس نے اس وقت ذمہ داری سنھبالی جب حالات انتہائی کشیدہ تھے۔

ان کے مطابق مینگورہ پولیس سٹیشن میں تربیت کے دوران سپیشل فورس کے کئی اہلکار خودکش حملے کا نشانہ بنے جبکہ بیشر کو ٹارگٹ کلنگ کےذریعے ہلاک کیاگیا لیکن ان قربانیوں کے باوجود آج تک سپیشل فورس کے اہلکاروں کو مستقل نہیں کیاگیا جس سے اہلکار اپنے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں۔

حکام کے مطابق خیبر پختونخواہ میں 155 جبکہ ملاکنڈ ڈویژن میں 250 سے زائد پولیس اہلکار ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہوئے۔

ملاکنڈ ڈویژن کے ریجنل پولیس افسر آزاد خان نے اس سوال کے جواب میں کہ بعض لوگ سوات کی تباہی کا ذمہ دار پولیس کو ٹہراتے ہیں پر بتایا کہ پولیس لا اینڈ آرڈر کی مینٹینس اور جرائم کے کنٹرول کے لیے ہوتی ہے جنگ کے لیے نہیں ہوتی، جب سوات میں حالات خراب ہوئے تو اس وقت جو دہشت گرد تھے وہ تربیت یافتہ تھے اور ان کے پاس پولیس کے مقابلے میں جدید اسلحہ تھا لیکن اب پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کر دیا گیا ہے جس کے بعد اب پولیس اس قابل ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرسکتی ہے۔

اسی بارے میں