’اپنی قربانیوں پر پشیمان ہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں تین ماہ پہلے ایک بم دھماکے میں زخمی ہونے والے ایلیٹ فورس کے ہیڈ کانسٹیبل ذولفقار حسین گذشتہ دو ماہ سے تحصیل گور گٹھڑی میں واقع پولیس کالونی میں اپنےگھر میں زیر علاج ہیں۔

وہ چل پھر نہیں سکتے۔

وہ آج کل اپنی جیب سے اپنا علاج کروا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کا باقاعدہ علاج نہ کروایا گیا تو ان کے پاؤں کے کٹنے کا خطرہ ہے۔

وہ بتاتے ہیں: ’واقعے کے بعد میں 15 دنوں تک ہسپتال میں زیر علاج رہا جس کے بعد مجھے فارغ کر دیا گیا حالانکہ میرے پاؤں کا زخم اتنا گہرا ہے کہ اگر ماہر ڈاکٹر سے علاج نہیں کروایا گیا تو میرا معذور ہونے کا خطرہ ہے۔‘

ہیڈ کانسٹیبل ذولفقار حسین کے مطابق: ’پولیس کے اعلیٰ افسران کا علاج نجی ہسپتالوں میں مفت ہوتا ہے لیکن سپاہیوں کا کوئی پوچھنے والا نہیں۔ افسران کے رویے کو دیکھ کر ہم تو اب اپنی قربانی پر پشیمان ہیں۔‘

ہیڈ کانسٹیبل نے مزید بتایا کہ نچلے رینک کے تمام اہلکار جو اس جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں ان کے خاندانوں کے ساتھ اعلیٰ حکام کی طرف سے یہی رویہ اپنایا گیا ہے جو ان کے ساتھ ہورہا ہے جس سے وہ انتہائی مایوس نظر آتے ہیں۔

Image caption ذوالفقار حسین کا کہنا ہے کہ اگر ان کا باقاعدہ علاج نہ کروایا گیا تو ان کے پاؤں کے کٹنے کا خطرہ ہے

خیبر پختونخوا میں سنہ 2001 کے بعد سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران اب تک ہلاک ہونے والے 1100 سے زائد پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پہلی مرتبہ صوبے میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے، جس کا منگل کو آخری دن ہے۔

یوم شہدا کے نام سے موسوم یہ تقریبات گذشتہ ایک ہفتے سے جاری رہیں۔ بعض شہریوں کے مطابق دیر آید درست آید کی مانند اب یہ دن جسے یوم شہدائے پولیس کا نام دیا گیا ہے، ہر سال چار اگست کو منایا جائے گا۔

خیبر پختونخوا پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے جہاں آئی جی سے لے کر ہر رینک کے افسر اور اہلکار نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان کی قربانی پیش کی ہے۔

دہشت گردی کے واقعات میں مرنے والے ان اہلکاروں کو حکومت کی جانب سے 30 لاکھ جبکہ زخمیوں کو ایک لاکھ روپے بطور معاوضہ دیا جاتا ہے۔ تاہم ہلاک ہونے والے 1200 اہلکاروں کے پسماندگان کی کفالت کرنا، ان کے بچوں کی تعلیمی اخراجات برداشت کرنا پولیس کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس کے ایڈیشنل آئی جی میاں محمد آصف کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کو حکومت کے ساتھ ساتھ پولیس کے ویلفیر فنڈ سے بھی رقومات فراہم کی جاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس ملک کا المیہ یہ ہے کہ جو لوگ چلے جاتے ہیں ان کو یاد تو کیا جاتا ہے لیکن جو موجود ہیں ان کی خدمات کی اس طرح قدر نہیں کی جاتی جس طرح ضرورت ہوتی ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محکمہ پولیس میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ ملکی سطح پر ان کی قربانیوں کو مناسب پذیرائی نہیں ملتی

ان کے مطابق فرائض کے دوران ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو معاوضہ دینا محکمہ پولیس کےلیے کبھی بوجھ نہیں رہا لیکن ان خاندانوں کی کفالت کرنا ان کے بچوں کی تعلیمی اخراجات برداشت کرنے جیسے کئی دیگر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ان اہلکاروں کے قربانیوں کا کچھ نہ کچھ ازالہ ہو سکے۔

محکمہ پولیس میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ ملکی سطح پر ان کی قربانیوں کو اس طرح نہیں دیکھا جا رہا جس طرح اس کی ضرورت ہے اور نہ ان کو وہ مراعات دی جا رہی ہیں جو دیگر فورسز کو حاصل ہیں۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق ان کے شہدا کی ذرائع ابلاغ اس طرح پذیرائی نہیں ہو رہی جس طرح دیگر فورسز کی جاتی ہے اور اس کے لیے پولیس کے اعلیٰ حکام بھی ذمہ دار ہیں۔

شدت پسندی کا بطور فرنٹ لائن فورس مقابلہ کرنے والی خیبر پختونخوا پولیس بنیادی طورپر انسداد دہشت گردی فورس نہیں ہے۔ تاہم امید کی جاسکتی ہے کہ بدلتے ملکی حالات میں ان کے حالات کار بھی تبدیل ہوں گے۔ آج کا دن ان کی قربانیوں کو یاد کرنے کا دن ہے۔

اسی بارے میں