جسٹس (ر) وجیہہ الدین کی پارٹی رکنیت معطل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جسٹس (ر) وجہیہ الدین تحریکِ انصاف میں 2013 کے پارٹی انتخابات میں بے ضابطگیوں کا جائزہ لینے والے ٹریبیونل کے سربراہ تھے

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے جسٹس (ر) وجیہہ الدین کی پارٹی کی بنیادی رکنیت معطل کر دی ہے۔

پی ٹی آئی کے میڈیا سیل کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے پارٹی کی سینئیر قیادت پر الزامات عائد کیے اور پارٹی کو اس انداز سے مجروح کیا جس میں تحریکِ انصاف کی مخالف جماعتیں مل کر بھی نہیں کر سکیں۔

بیان میں پارٹی کے سربراہ عمران خان کی جانب سے گذشتہ روز جاری کیے جانے والی ہدایت کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ جس کے مطابق پارٹی کے کسی بھی رکن کو پارٹی کے اندرونی معاملات کو کھلے عام بیان کرنے کی اجازت نہیں۔ تاہم جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے واضح انداز میں پارٹی کے نظم و ضبط سے انحراف کیا اور یہ بھی اعلان کیا کہ وہ آئندہ بھی جماعت کے اندرونی معاملات کو میڈیا پر زیرِ بحث لائیں گے۔

گذشتہ ہفتے اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے کہا تھا کہ پارٹی کے سربراہ عمران خان کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک، پارٹی کے جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین اور دیگر دو افراد کو اُن کے عہدوں سے ہٹانے اور پارٹی کی رکنیت ختم کرنے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان چار رہنماؤں کی پارٹی رکنیت ختم کرنے کے طریقہ کار طے کرنے کے لیے پارٹی کے چیئرمین سے مزید مشاورت کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دنیا بھر میں کہیں بھی ٹریبیونل ازخود منصف، استغاثہ اور احکامات پر عملدرآمد کروانے والے ادارے کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا

واضح رہے کہ عمران خان نے پارٹی انتخابات کے دوران شکایات کے ازالے کے لیے جسٹس ریٹائرڈ وجہیہ الدین کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا تھا۔

کمیشن نے اپنی سفارشات میں کہا تھا کہ پارٹی کے جنرل سیکریٹر ی جہانگیر ترین اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے پارٹی میں اپنے عہدے بچانے کے لیے قواعدو ضوابط کی خلاف ورزیاں کرنے کے ساتھ ساتھ ووٹ لینے کے لیے پیسوں کا استعمال بھی کیا ہے اس لیے ان سمیت چار افراد کو پارٹی کے عہدوں سے فارغ کردیا جائے تاہم کمیشن کی ان سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کے نظریاتی کارکنوں کے ساتھ ہیں اور پارٹی میں قبضہ گروپ کے ساتھ نہیں ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر پارٹی کے ساکھ کو نقصان پہنچانے یا اسے کمزور کرنے کی کوشش کی گی تو وہ عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

اس سے قبل عمران خان نے جون میں ٹریبیونل کی جانب سے سینیئر رہنماؤں کی رکنیت معطل کیے جانے اور چند دیگر کو نوٹس جاری کیے جانے پر ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ ٹریبیونل تحلیل کیا جا چکا ہے۔

تاہم ٹریبیونل کے سربراہ کا اصرار تھا کہ عمران خان نے ٹریبیونل کو تحلیل نہیں کیا تھا بلکہ ٹریبیونل کے فیصلے کے بعد ان پر عمل درآمد کے لیے اس سے تین ہفتوں کی مہلت مانگی تھی۔

وجیہہ الدین کی پارٹی رکنیت معطل کرنے سے متعلق بیان میں عمران خان نے اپنے تحریری بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ تحریکِ انصاف پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ہر سطح پر انتحابات کروائے اور بے ضابطگیوں کو جائزہ لینے کے لیے ٹریبیونل بھی قائم کیا۔

تاہم انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’دنیا بھر میں کہیں بھی ٹریبیونل ازخود منصف، استغاثہ اور احکامات پر عملدرآمد کروانے والے ادارے کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا۔‘

اسی بارے میں