’فوجی عدالتوں سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ متعدد وکلا تنظیموں نے 21ویں آئینی ترمیم کے تحت ملک بھر میں شدت پسندی کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کو چیلنج کیا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے اختیارات بڑھانے کے خلاف دائر تمام درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

ادھر پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اعلیٰ عدالت نے 18ویں اور 21ویں آئینی ترامیم کو درست تسلیم کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کے قیام کو جائز قرار دیا ہے۔

مقتدرِ اعلیٰ کون؟ سپریم کورٹ کی رائے منقسم

انھوں نے یہ بھی کہا کہ غیر معمولی حالات کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

بدھ کی صبح چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے 21ویں آئینی ترمیم کے تحت ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے اختیارات سے متعلق دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان درخواستوں کو کثرتِ رائے سے مسترد کر دیا۔

11 ججوں نے فوجی عدالتوں کے حق میں اور چھ نے مخالفت میں فیصلہ دیا۔

درخوست گزاروں کا اس مقدمے میں موقف تھا کہ فوجی عدالتیں عام شہریوں کے خلاف سماعت کرنے کا حق نہیں رکھتیں، لہٰذا انھیں اس سے روکا جائے۔ انھوں نے اس فیصلے کے بعد کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کریں گے۔

واضح رہے کہ فوجی عدالتوں نے شدت پسندی کے مقدمات میں چھ افراد کو موت کی سزا سنائی تھی جسے سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کی سماعت کے دوران ان سزاوں پر عمل درآمد روک دیا تھا، اب ان پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس جواد ایس خواجہ نے فیصلے پر اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ملکی آئین سب سے مقدم ہے، پارلیمنٹ مقدم نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ پارلیمنٹ عوام کے منتخب نمائندہ فورم ہے لیکن اس کا وجود بھی آئین کے ہی مرہون منت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’عدالتی فیصلے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو تقویت ملے گی اور دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی ہوگی‘

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کو کسی طور پر یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ جس طرح چاہیں آئین میں ترمیم کریں چاہے وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

جسٹس خواجہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ آئین تمام ریاستی اداروں پر فوقیت رکھتا ہے اور آئین کی تخلیق کردہ پارلیمنٹ آئین سے بالاتر نہیں ہے اور اس کے اختیارات لامحدود نہیں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے جن دیگر ججوں نے اختلافی نوٹ لکھا ہے اس میں قاضی فائز عیسیٰ، دوست محمد اور اعجاز افضل شامل ہیں۔

17 رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری سے متعلق 18ویں آئینی ترمیم سے متعلق درخواستیں بھی مسترد کر دیں، اس فیصلے میں 14 ججوں نے اس کے حق میں اور تین نے اس سے اختلاف کیا۔

سپریم کورٹ کی طرف سے اس ضمن میں کاز لسٹ پہلے ہی جاری کر دی گئی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک اور جسٹس دوست محمد نے ان درخواستوں پر مختصر فیصلہ سنایا۔

خیال رہے کہ ان درخواستوں میں اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق پارلیمنٹ کے کردار، آئین کے بنیادی ڈھانچے اور اس سے متعلق پارلیمنٹ کو آئین سازی کے اختیار سے متعلق سوالات اُٹھائے گئے تھے۔

اس کے علاوہ آئین میں درج انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق بھی نکات اُٹھائے گئے تھے۔

ان درخواستوں میں پارلیمنٹ کو آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کرنے کے اختیار کے علاوہ سپریم کورٹ کے ایسے آئینی معاملات میں مداخلت کرنے کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا جو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہوں۔

Image caption موجودہ حکومت نے گذشتہ برس دسمبر میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد پارلیمنمٹ میں اکیسویں آئینی ترمیم منظور کروا کر اس کے تحت ملک بھر میں فوجی عدالتیں قائم کیں

تاریخی فیصلہ

پاکستان کے وزیراعظم نے بدھ کو قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے بارے میں تمام پالیمانی جماعتوں کو تحفظات تھے تاہم دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔

’میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ غیر معمولی حالات کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

میاں نواز شریف نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو تقویت ملے گی اور دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ جج صاحبان کا یہ تاریخ ساز فیصلہ ہمارے مستقبل پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کرے گا، یہ فصیلہ عوام کے اقتدارِ اعلیٰ اور پارلیمینٹ کی بالادستی کی سند بھی ہے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ متعدد وکلا تنظیموں نے 21ویں آئینی ترمیم کے تحت ملک بھر میں شدت پسندی کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کو چیلنج کیا تھا اور ان تنظیموں کا موقف ہے کہ فوجی عدالتیں متوازی نظامِ عدل ہے اور یہ موجودہ عدلیہ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

موجودہ حکومت نے گذشتہ برس دسمبر میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد پارلیمنٹ میں 21ویں آئینی ترمیم منظور کروا کر اس کے تحت ملک بھر میں فوجی عدالتیں قائم کر دی تھیں۔ اب تک ملک بھر میں نو فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں جس میں اب تک 60 سے زائد مقدمات بھیجے گئے ہیں۔

اسی بارے میں