’بھارت دریاؤں میں پانی چھوڑنے سے قبل آگاہ کرے‘

Image caption پنجاب میں سیلاب کے نتیجے میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے 48 افراد کی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بھارت سے درخواست کی جا رہی ہے کہ وہ دریاؤوں میں پانی چھوڑنے سے قبل پاکستان کو پیشگی آگاہ کرے۔

ہر طرف پانی، لیکن گھر نہیں چھوڑ سکتے

بدھ کے روز لاہور میں وزیر داخلہ پنجاب کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ نے سیلاب کی تباہ کاریوں اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں میڈیا کے نمائندوں کو آگاہ کیا۔

شجاع خانزادہ کا کہنا تھا کہ سیلاب سے اب تک تین لاکھ 60 ہزار سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں اور دو لاکھ 71 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

اُنھوں نے کہا کے پنجاب کے سات اضلاع ڈیرہ غازی خان، لیہ، مظفر گڑھ، راجن پور، رحیم یار خان، میانوالی اور بھکر سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ دریائے سندھ میں چشمہ اور تونسہ کے مقام پر اُونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ دیگر مقامات پر نچلے اور درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ چشمہ کے مقام پر پانچ لاکھ 20 ہزار جبکہ تونسہ کے مقام پر تقریباً چھ لاکھ کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ سیلاب سے کُل 469 دیہات متاثر ہوئے ہیں اور اِن علاقوں میں 140 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان کے مختلف علاقوں میں سیلاب کے نتیجے میں مجموعی طور پر 169 افراد ہلاک ہوئے: این ڈی ایم اے

شجاع خانزادہ کے مطابق بچاؤ کے عملے نے سیلاب زدہ علاقوں میں اب تک ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔

انھوں نے کہا پنجاب حکومت نے ہرمتاثرہ ضلعے کی اِنتظامیہ جو اشیائے خور و نوش اور امدادی کاموں کے لیے 55 کروڑ کی رقم جاری کی ہے جبکہ متاثرین کی بحالی کے لیے مزید ایک ارب روپے مختص کیے جا چکے ہیں۔

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے اقدامات کے بارے میں وزیر داخلہ نے بتایا کے این ڈی ایم اے کی جانب سے بھارت سے درخواست کی جا رہی ہے کہ وہ دریاؤں میں پانی چھوڑنے سے قبل پاکستان کو پیشگی اطلاع کرے۔

خیال رہے کہ بھارت کی کئی ریاستوں میں بھی سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی کا سلسلہ جاری ہے اور مرنے والوں کی مجموعی تعداد 150 سے تجاوز کر گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان میں تونسہ، گڈو اور سکھر بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران دریائے جہلم، دریائے راوی کے ملحقہ علاقوں سمیت شمال مشرقی پنجاب اور شمالی علاقہ جات میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارش کا امکان ہے۔

اسی طرح سندھ کے جنوب مشرقی علاقوں، جنوبی پنجاب، دریائے کابل اور گلگت بلتستان میں بارش کا امکان ہے۔

اسی بارے میں