پی ٹی آئی ممبران کی رکنیت ختم کرنے کی تحاریک واپس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کی رکنیت ختم کرنے کے حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام ف کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی تحاریک واپس لے لی گئی ہیں ۔

پی ٹی آئی کے ارکینِ قومی اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق دونوں جماعتوں کی طرف سےتحاریک 22 اپریل کو پیش کی گئی تھیں۔

تحریک انصاف کے خلاف ایم کیو ایم، جے یو آئی کی مشترکہ حکمت عملی

’فیصلہ ہونے تک قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ‘

ان تحاریک میں آئین کے آرٹیکل 64 کی شق نمبر دو کا حوالے دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تحریکِ انصاف کے اراکانِ اسمبلی دھرنوں کے دوران 40 دن سے زیادہ عرصے تک ایوان سے بغیر اطلاع دیے غیر حاضر رہے لہٰذا ان کی رکنیت ختم کی جائے اور الیکشن کمیشن ان نشستوں پر ضمنی انتخابات کروائے۔ ان تحریکوں کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے 28 اراکینِ قومی اسمبلی کے ناموں کی فہرست بھی منسلک کی گئی تھی۔

ان تحاریک کو واپس لینے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کا ڈی سیٹ ہونے کا امکان ختم ہوگیا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو شروع ہوا تو اس تحریک کو واپس لینے کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی درخواست اور نمائندہ ٹیم سے مشاورت کے بعد انھوں نے قرارداد واپس لی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کی جماعت کے تحفظات بدستورموجود ہیں کیونکہ جمہوریت آئین اور پارلیمنٹ پر ابھی بھی خطرات منڈلا رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دھرنے کی وجہ سے جہاں پارلیمنٹ اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے جس طرح پارلیمنٹ یکجا تھی اس طرح اگر مستقبل میں کبھی بھی جمہوریت کو خطرہ ہوا تو اُن کی جماعت پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ اُنھوں نے کہا کہ اکثریت کبھی بھی اقلیت کو رائے دہی سے محروم نہیں کر سکتی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اُن کی جماعت کا کسی سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی درخواست پر اور اپنے قائد الطاف حسین کی ہدایات کی روشنی میں اُن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق تحریک واپس لے رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی سلمان خان بلوچ نے پی ٹی آئی کے ارکین کو ڈی سیٹ کرنے کی تحریک واپس لے لی۔

قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے تحریک واپس لینے سے متعلق ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں ایوان کو بتایا کہ اُنھوں نے ایم کیو ایم کے قائد سے کہا کہ پاکستانی افواج اور رینجرز کے اہلکار کراچی سمیت ملک بھر میں شدت پسندی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں اور ایسے حالات میں فوج پر تنقید سے پورے پاکستان میں غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

ایاز صادق نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے گفتگو کے دوران کہا کہ فوج اور رینجرز کے اہلکار اُن کے بھائی اور بچے ہیں اور وہ بھی سکیورٹی اداروں کے ان اہلکاروں کا اسی طرح احترام کرتے ہیں جس طرح دوسرے پاکستانی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت بڑی مشکل سے آئی ہے اس لیےتمام سیاسی جماعتوں کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی روایات کو فروغ دیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی ائی کے اراکین کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق تحاریک واپسی لینے سے کسی کی ہار یا جیت نہیں ہوئی بلکہ اس سے جمہوریت اور پارلیمنٹ مضبوط ہوئی ہے۔ سید خورشید شاہ نے اس معاملے کو حل کرنے میں قومی اسمبلی کے سپیکر کے کردار کو بھی سراہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

رواں ہفتے تحریک انصاف کے اراکین نے قومی اسمبلی کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک اُن کو ڈی سیٹ کرنے کی تحریکوں پر فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک وہ ایوان میں نہیں آئیں گے۔

جبکہ سپیکر قومی اسمبلی نے پاکستان تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق قراردادوں پر رائے شماری کا معاملہ جمعرات تک کے لیے موخر کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ حکمران جماعت مسلم لیگ نواز نے کہا تھا کہ اگر تحریک انصاف کے ارکین کی رکنیت ختم کرنے کے بارے میں تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تو وہ اُس کے خلاف ووٹ دیں گے۔

اسی بارے میں