برطانیہ افغان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے پرامید

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption مصالحتی عمل ہی خطے میں امن کی کنجی ہے: مائیکل فیلن

برطانیہ کے وزیر دفاع مائیکل فیلن نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ عمل جاری رہے اور امید ہے کہ مذاکرات میں آنے والا حالیہ تعطل عارضی ثابت ہو گا۔

افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر کی ہلاکت

’مذاکرات دشمن کی پروپیگنڈہ مہم ہے‘

بدھ کو افغانستان اور پھر پاکستان کے دورے کے اختتام پر اسلام آباد میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مائیکل فیلن کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت اہم ہے کہ ہم مذاکرات میں آنے والی تیزی دوبارہ حاصل کریں۔ کابل میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور یہاں وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ملاقاتوں میں سب اس پر متفق تھے کہ ہمیں اس جاری تاریخی مصالحتی عمل کی رفتار کو نہیں کھونا چاہیے۔ یہ اس خطے میں امن کی کنجی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

خیال رہے کہ ملا عمر کی ہلاکت کے بعد یکم اگست کو افغان طالبان کے نئے امیر ملا منصور اختر نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے کہ امن مذاکرات کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ دشمن کی پروپیگنڈا مہم ہے۔‘

طالبان اسلامی تحریک کے اندر تقسیم ان کے لیے یہ کتنی قابل تشویش ہیں، اس کے جواب میں برطانونی وزیرِ دفاع نے کہا کہ ’جب آپ مصالحت کی کوششیں شروع کرتے ہیں تو اس طرح کی صورت حال تحریکوں میں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ماضی میں بھی جب تنظیمیں آئینی اور اداراتی دائرے میں آئیں تو بعض لوگ اس سے متفق نہیں ہوتے تھے اور ان سے الگ ہو ئے، اس کا حصہ نہیں بنے۔ لیکن ابھی خواہش موجود ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس عمل کو دوبارہ شروع کیا جائے۔‘

پاکستان کے کردار کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس خطے میں امن کے لیے نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

’پاکستان ایک اہم کردار ادار کر رہا ہے، پہلے ملک کے اندر انتہا پسندی سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس پر میں نے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے بات کی ہے۔ یہ بہت اہم کوشش ہے ناصرف پاکستان میں استحکام کے لیے بلکہ اس خطے کے امن کے لیے۔ اس کے علاوہ پاکستان کا نہ صرف طالبان کو مذاکرت کی میز تک لانے میں اہم کردار تھا بلکہ اس جاری رکھنے میں بھی ہے۔ اس کا افغانستان کی نئی حکومت سے تعلق بھی اہم ہے۔‘

مائیکل فیلن کا حالیہ دورہ، افغانستان اور پاکستان کے درمیان کئی اہم شعبوں بشمول دوطرفہ دفاعی تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مستحکم کرنے کے عزم کا ایک حصہ ہے۔

برطانوی وزیرِ مملکت برائے دفاع نے اپنے دورے کے دوران وزیرِ اعظم پاکستان میاں نواز شریف، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف، پاکستانی وزیرِ دفاع، وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف، وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے امورِ خارجہ سید طارق فاطمی سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔

’ایک بیان میں برطانوی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ برطانیہ پاکستانی عوام اور دفاعی اہلکاروں کی جانب سے دی گئی عظیم قربانیوں کا احترام کرتا ہے۔ ہمارے دونوں ممالک اپنے عوام کو درپیش دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خطرے سے نمٹنے کے لئے ایک غیر متزلزل عزم کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں برطانیہ پاکستان کے شانہ بشانہ ساتھ دیتا رہے گا۔‘

اسی بارے میں