افغان مصالحتی عمل موخر ہوا ہے ختم نہیں: خواجہ آصف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر دفاع نے ایک مرتبہ پھر اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان طالبان کو کنٹرول کرتا ہے

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان مصالحتی عمل کے ذریعے پاکستان ماضی میں اس پر لگنے والے ’الزامات کو دھونا‘ چاہتا ہے اور یہ کہ ’افغان ملا عمر کی نہ تو پاکستان میں موت ہوئی اور نہ انھیں یہاں سپرد خاک کیا گیا ہے۔‘

خواجہ آصف نے جمعے کے دن قومی اسمبلی کو بتایا کہ ’اس خطے میں امن کے لیے افغانستان اور پاکستان کے کردار نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کا اس عمل میں جو مثبت کردار ہے وہ تاریخ کا حصہ بنے گا۔‘

پارلیمان کے ایوان زیریں میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بابت پالیسی بیان دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مری میں سات جولائی کو منعقد ہونے والے مذاکرات کا پہلا نہیں بلکہ دوسرا دور تھا۔ ’اس سے قبل چین میں پہلے دور ہو چکا تھا۔ تیسرا دور ملا محمد عمر کی موت کی خبر کی وجہ سے ملتوی ہوا ہے ختم نہیں ہوا۔ یہ عمل آج بھی چل رہا ہے۔‘

وزیر دفاع کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اطلاعات کے مطابق طالبان کی نئی قیادت کے مخالفین کا ایک اجلاس کسی نامعلوم مقام پر آج ہو رہا ہے جس میں نئی قیادت سے متعلق فیصلے متوقع ہیں۔

وزیر دفاع نے ایک مرتبہ پھر اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان طالبان کو کنٹرول کرتا ہے۔ تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ ’پاکستان کے شدت پسند اسلامی تحریک کے ساتھ تعلقات ضرور ہیں جو استعمال کرتے ہوئے ہم انھیں مذاکرات پر آمادہ کر سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA REUTERS
Image caption خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم ملا محمد عمر کی موت کے بعد تحریک کے اندر قیادت کے اختلافات یا جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہتے

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور چین اس اس مصالحتی عمل میں بطور مبصر شریک ہیں جبکہ پاکستان ثالث یا سہولت کار کے طور پر کام کر رہا ہے۔

ملا عمر کی ہلاکت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ان کے خاندان اور عزیز و اقارب کے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

ان کا اصرار تھا کہ پاکستان ان کی موت کے وقت کے بارے میں بھی کسی بھی تنازعے میں شریک نہیں ہونا چاہتا۔ ’ان کے اندر قیادت کا اگر کوئی تنازع ہے تو ہم اس میں نہیں پڑنا چاہتے۔ ہماری یہ کوشش ہو گی کہ جو بھی نئی قیادت سامنے آئے وہ صلح کے عمل کو آگے بڑھائے تاکہ اس خطے میں امن لایا جا سکے۔‘

اسی بارے میں