بلوچستان یوم شہدا پولیس: آٹھ سال میں 524 اہلکار ہلاک ہوئے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہلاک ہونے والے بعض پولیس اہلکاروں کے رشتہ داروں نے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں شورش اور شدت پسندی کے واقعات میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یوم شہدا پولیس منایا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق ان واقعات میں 2006 سے اب تک 524 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

یوم شہدا پولیس کے سلسلے میں ایک تقریب کوئٹہ چھاؤنی میں بلال آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔

اس تقریب میں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور فوج کے جنوبی کمان کے کمانڈر کے علاوہ دیگر حکام نے شرکت کی۔

تقریب میں ان پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے بھی شرکت کی جو کہ شورش اور شدت پسندی کے واقعات میں بلوچستان میں مارے گئے۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے فوج اور سویلین حکام کی جانب سے پاکستان کے یوم آزادی کی مناسبت سے 7 اگست سے 14 اگست تک تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

ان میں یوم شہدا پولیس بھی شامل ہے جس کا مقصد ان اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے جو بلوچستان میں شورش اور شدت پسندی کے واقعات میں ہلاک ہوئے۔

تقریب میں شریک بچوں نے شدت پسندی کے حوالے سے مختلف خاکے اورنغمے پیش کیے۔

ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان عملیش خان کا کہنا تھا کہ ’یہ بتاتے ہوئے ہمیں فخر محسوس ہورہا ہے کہ بلوچستان میں پایہ دار امن کے لیے 2006 سے اب تک 524 پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ انہی قربانیوں کا ثمر ہے کہ بلوچستان کے لوگ اپنے آپ کو زیادہ محفوظ سمجھنے لگے ہیں اور دہشت گردی آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فوج کے جنوبی کمان کے کمانڈر لیفٹینینٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کا کہنا تھا کہ ’بیرونی ممالک کو پاکستان کی دنیا میں قیام امن کے لیے قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔‘

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ حکومت کی کوششوں کے باعث بلوچستان امن کی راہ پر گامزن ہوگیا ہے۔

ہلاک ہونے والے بعض پولیس اہلکاروں کے رشتہ داروں نے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

اس احتجاج کی وجہ بتاتے ہوئے کوئٹہ میں ایک واقعے میں ہلاک ہونے والے ایک پولیس اہلکار کے والد کا کہنا تھا کہ انھیں تقریب میں شرکت کے لیے بلایا گیا تھا لیکن غریب پولیس اہلکاروں کے لواحقین کو نظر انداز کرکے تقریب میں نہیں لے جایا گیا۔

اسی بارے میں