مبینہ جنسی زیادتی: ’اعلیٰ ترین سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے‘

صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے واقعات کی تفتیش کرنے والی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ اِس معاملے کی اعلیٰ ترین سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ ضلح قصور کے نواحی گاؤں حسین والا میں بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور اِس فعل کی ویڈیوز بنانے کے واقعات منظر عام پر آئے تھے۔

تین روز قبل بھی اہل علاقہ نے اِن مبینہ واقعات کے خلاف احتجاج اور پولیس پر پتھراؤ کیا تھا جس میں دو ڈی ایس پی سمیت بارہ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

واقعے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایک دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

تحقیقاتی کمیٹی میں شامل کمشنر لاہور عبداللہ خان سُنبل نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھوں نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ اِس معاملے کی مکمل اور جامع تفتیش ہونی چاہیے۔

کمشنر لاہور کا کہنا ہے کہ گاؤں حسین والا میں اِس طرح کے واقعات گذشتہ سات آٹھ برسوں سے مبینہ طور پر ہو رہے ہیں لیکن کسی قسم کی شکایت درج نہ کروانے کے باعث پولیس کی جانب سے کوئی کاروائی عمل میں نہ آ سکی۔

عبداللہ خان سنبل کے بقول واقعے میں ملوث ملزم اور جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے اکثر بچے نابالغ تھے لیکن بعد میں وہ خود اس جرم میں ملوث ہو گئے۔

عبداللہ خان سنبل کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد اِن بچوں کے ساتھ کی گئی جنسی زیادتی کی ویڈیوز بنا کر اُن کو بلیک میل بھی کرتے تھے۔

کمشنر لاہور کے مطابق اب تک ساٹھ سے زائد ویڈیوز کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

عبداللہ خان سنبل کا کہنا ہے اُنھوں نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ وہ لوگ جو جنسی زیادتی میں ملوث تھے اور اب عبوری ضمانت پر ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا اُن سب کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

اُدھر قصور شہر کی پولیس کے مطابق اِن واقعات میں مبینہ طور پر ملوث چھ ملزمان کو پولیس نے گرفتار کی لیا ہے جبکہ باقی پانچ افراد نے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔

ڈی پی او قصور رائے بابر سعید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چھ مرکزی ملزمان اِس وقت 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں جس کے بعد اِن ملزمان کا عدالت میں چالان پیش کیا جائے گا۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان 2009 سے اِس طرح کے واقعات میں ملوث ہیں۔

رائے بابر کے مطابق پولیس کو گذشتہ ماہ ہی بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور ویڈیوز بنانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

ڈی پی او قصور کا کہنا ہے کہ واقعات کے سامنے آنے کے بعد پولیس کی جانب سے علاقے میں اعلانات بھی کروائے گے کہ لوگ سامنے آئیں اور اپنی شکایات درج کروائیں۔

ڈی پی او رائے بابر کا کہنا ہے کہ پولیس کو اب تک صرف سات شکایات موصول ہوئی ہیں جن پر کاروائی کرتے ہوئے مقدمات درج کر لیے گے ہیں۔

قصور شہر میں مشتعل افراد کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے بارے میں رائے بابر کا کہنا ہے کہ مدعیوں کی جانب سے ملزمان کے گھر والوں کو گرفتار کرنے کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ پولیس کی تفتیش کے مطابق اہلخانہ بے قصور ہیں۔

ڈی پی او قصور رائے بابر کے مطابق علاقے کے بعض با اثر افراد اپنی نمبرداری، زمینوں کے جھگڑے اور ووٹوں کی خاطر اِس معاملے کو مختلف رنگ دے کر ذاتی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

رائے بابر نے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والی اِن خبروں تردید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 280 سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں