’اپیل کا حق دلوائیں‘، فوجی عدالت سے سزا یافتہ ملزم کی درخواست

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سپریم کورٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کو اپنے اکثریتی فیصلے میں جائز قرار دیا تھا

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل کے تحت قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے ایک قیدی نے سزا کے خلاف اپیل کے حق سے محروم رکھے جانے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

حیدر علی نامی اس قیدی کی جانب سے یہ درخواست ان کے والد ظاہر شاہ نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے جس میں وفاق کے علاوہ سیکرٹری دفاع و داخلہ اور جنرل آفیسر کمانڈنگ مالاکنڈ کو فریق بنایا گیا ہے۔

سوات سے تعلق رکھنے والے حیدر علی ان چھ مجرموں میں سے ایک ہیں جنھیں فوجی عدالتوں کی جانب سے سزائے موت دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

ان پر سوات میں فوجی آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا اور انھیں سنہ 2009 میں حراست میں لیا گیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل ذوالفقار بھٹہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ اب جبکہ عدالتی فیصلے کے بعد جہاں فوجی عدالتوں کے فیصلے پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ نہیں رہی وہیں حیدر علی کو اس فیصلے کے تحت اپنی سزا کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا حق بھی مل گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے بارہا کوششوں کے باوجود ان کے موکل کو سنائی گئی سزا سے متعلقہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا رہا اور وہ اپیل دائر کرنے سے قاصر ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر حیدر علی کی سزا پر عمل درآمد ہو جاتا ہے تو اس صورت میں اس کے قتلِ عمد کا مقدمہ سزا دینے والی اتھارٹی کے سربراہ کے خلاف درج کیا جائے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے حیدر علی کو جب چھ برس قبل پکڑا گیا تھا تو وہ میٹرک کا طالبعلم تھا۔

ظاہر شاہ کے مطابق حراست میں لیے جانے کے بعد ان کے بیٹے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں اور انھیں اس کے لوئر دیر کی جیل میں قید ہونے کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے افراد کا معاملہ پیش ہوا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کو اپنے اکثریتی فیصلے میں جائز قرار دیا تھا۔

تاہم اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کو اپیل کا حق حاصل ہوگا۔

اس سے قبل رواں برس اپریل میں سپریم کورٹ نے 21ویں آئینی ترمیم پر فیصلے تک نور سعید، حیدر علی، مراد خان، عنایت اللہ، اسرار الدین اور قاری ظہیر نامی ان افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد معطل کر دیا تھا جنھیں فوجی عدالتوں کی جانب سے یہ سزا دی گئی تھی۔

فوج کی جانب سے ان افراد کو سزا سنائے جانے کے بارے میں جو بیان سامنے آیا تھا اس میں یہ کہا گیا تھا کہ یہ افراد دہشتگردی کے سنگین جرائم، قتل، خودکش حملے اور لوگوں کے جان و مال کے نقصان میں ملوث ہیں تاہم بیان میں ان مقدموں کی تفصیل یا سماعت کے مقام کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔

دہشت گردی کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر 16 دسمبر سنہ 2014 میں ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کے بعد کیا گیا تھا اور اس ضمن میں پارلیمنٹ نے پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم بھی کی تھی۔

اس وقت ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم ہیں جن میں سے صوبہ خیبر پختون خوا اور صوبہ پنجاب میں تین تین جبکہ سندھ میں دو اور بلوچستان میں ایک عدالت ہے۔

اسی بارے میں