ایم کیو ایم کا احتجاج، سندھ اسمبلی کا اجلاس ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم کی رکن ہیر سوہو نے تحریک التوا کے بجائے پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے خلاف قرارداد پڑھنا شروع کر دی

سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین نے پیر کو احتجاج کیا، جس کے باعث اجلاس جاری نہیں رہ سکا۔ ایم کیو ایم کے اراکین سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے خلاف قرارداد اور اپنے مقتول کارکن محمد ہاشم کی ہلاکت پر بات کرنے کی خواہشمند تھے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین پیر کو بازو پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ بعض نے محمد ہاشم کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

جیسے ہی دعا کا وقفہ ختم ہوا تو ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما خواجہ اظہار الحسن نے محمد ہاشم کی ہلاکت پر بات کرنا چاہی اور کہا کہ وہ صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کا کارکن لاپتہ تھا اور اب اس کی لاش ملی ہے۔

سپیکر آغا سراج درانی نے خواجہ اظہار الحسن کو اجازت نہیں دی اور کہا کہ وہ ایجنڈا مکمل ہونے کے بعد ہی بات کر سکتے ہیں۔ تاہم خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ آپریشن کے کپتان وزیر اعلیٰ سندھ ہیں اور وہ یہ بات انھیں بتانا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم کے اراکین پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے خلاف قرارداد اور مقتول کارکن کی ہلاکت پر بات کرنے کی خواہش مند تھے

صوبائی وزیر قانون سکندر مندھرو نے یقین دہانی کرائی کہ واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں گی، لیکن ایم کیو ایم کے اراکین نے اس کو قبول نہیں کیا۔

سکندر مندھرو کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اراکین اپنا ایجنڈا ان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، جو قابل قبول نہیں ہے۔

اسی بحث مباحثے کے دوران کچھ اراکین وزیر اعلیٰ کی جانب بڑھے جس پر پیپلز پارٹی کے اراکین سامنے آگئے اور دونوں اطراف سے گرما گرمی شروع ہو گئی۔ اس کی وجہ سے سپیکر نے دس منٹ کے لیے اجلاس ملتوی کر دیا۔

وقفے کے بعد اجلاس کا دوبارہ آغاز ہوا اور وقفۂ سوالات کے فوری بعد ایم کیو ایم کی رکن ہیر سوہو نے تحریک التوا کے بجائے پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے خلاف قرار داد پڑھنا شروع کر دی۔ اس سے ایک بار پھر ایوان میں شور شرابہ ہوا، جس کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

اجلاس کے بعد ایم کیو ایم کے سینیئر رکن اسمبلی سید سردار احمد کا کہنا تھا کہ انھیں قرارداد پیش کرنے نہیں دی گئی حالانکہ جمعے کو قواعد و ضوابط کے خلاف قرارداد منظور کی گئی تھی۔

’ہم نے جمعے کو دو قراردادیں یہاں جمع کرائی تھیں، آج مستقل اصرار کرتے رہے کہ ایک قرارداد پاس کرنے دیں لیکن انھیں اجازت نہیں دی گئی اس کے برعکس جمعے کو آؤٹ آف ٹرن ایجنڈا مکمل کیے بغیر قراردادیں منظور کیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم قرار دادا کا بدلہ چاہتی ہے

سندھ اسمبلی میں جمعے کے روز ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف قرارداد منظور کی گئی تھی، جس کی تحریک انصاف کے علاوہ مسلم لیگ ن، مسلم لیگ فنکشنل اور پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی حمایت کی تھی۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم قرارداد کا بدلہ چاہتی ہے۔

’وہ مد مقابل قرارداد لانا چاہتے تھے لیکن اس طرح تو مارکس حاصل نہیں کیے جا سکتےاور اس طرح ہم کھیلنے نہیں دیں گے۔ ہم بھی سینیئر سیاست دان اور پارلیمینٹیرین ہیں۔‘

یاد رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے مبینہ طور پر لاپتہ کارکن محمد ہاشم کی لاش کی گذشتہ روز نادرا ریکارڈ کی مدد سے شناخت کی گئی تھی۔ رابطہ کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ محمد ہاشم کو رینجرز نے حراست میں لیا تھا۔

ایم کیو ایم نے کارکن کی ہلاکت کے خلاف پیر کو ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس پر رینجرز کا بروقت رد عمل سامنے آیا اور شہریوں کو کاروبار جاری رکھنے کی اپیل کی گئی۔

رینجرز ترجمان نے قتل کی تحقیقات کی بھی یقین دہانی کرائی جس کے بعد ایم کیو ایم نے غیر روایتی طور پر ہڑتال کا اعلان واپس لے لیا۔

اسی بارے میں