اشرف غنی کا پیغام، مایوسی یا دھمکی؟

تصویر کے کاپی رائٹ ARG
Image caption افغانستان میں دیرپا امن کا واحد راستہ مذاکرات ہی ہیں: جنرل راحیل شریف

’میں پاکستان کی حکومت اور عوام سے پوچھتا ہوں کہ اگر کابل میں شاہ شاہد جیسا حملہ اسلام آباد میں ہوتا اور اس کے پیچھے کارفرما گروہ کی افغانستان میں خفیہ پناہ گاہ ہوتی اور وہ ہمارے بڑے شہروں میں اپنے دفاتر اور تربیت گاہیں چلاتا، تو آپ کا ردعمل کیا ہوتا؟‘

یہ سوال افغان صدر اشرف غنی نے پیر کو اپنی میڈیا کانفرنس میں کیا تھا۔

’پاکستان سے امن معاہدہ‘

دسمبر میں پاکستان کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ کا دورۂ افغانستان، صدر اشرف غنی کی پاکستان آمد، سرحد پر امن و امان کے قیام کے لیے کیے جانے والے آپریشنز اور گذشتہ ماہ مری میں افغان طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانا وہ اقدامات تھے جس سے یہ دکھائی دینے لگا کہ شاید اب فضا بدل جائے۔

لیکن ملا عمر کی ہلاکت، نئے امیر کی تعیناتی اور صبح و شام کابل میں ہونے والے بم دھماکوں سے حالات میں تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔

ایسے حالات میں صدر اشرف غنی کا حالیہ بیان کیا اشارے دے رہا ہے؟

افغانسان میں قومی سلامتی کے ادارے این ڈی ایس کے سابق سربراہ امراللہ صالح کہتے ہیں کہ اشرف غنی نے ان ہی حقائق کو دہرایا ہے جن سے افغان عوام بھی بخوبی آگاہ ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ روز اشرف غنی نے جو بھی کہا وہ نہ صرف اشرف غنی کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ افغان عوام کی مایوسی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ہم پاکستان کی دوغلی پالیسی سے تنگ آ چکے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو معلوم ہے کہ اگر افعانستان میں کوئی پاکستان کا دوست ہے تو وہ صرف اشرف غنی ہے: بریگیڈیئر (ر) سعد محمد

دوسری جانب پاکستان میں سلامتی امور کے ماہر اور افغانستان میں پاکستان کے سابق ملٹری اتاشی بریگیڈیئر سعد محمد کے خیال میں افغان صدر نے پاکستان پر یہ تنقیدی بیان خود پر موجود دباؤ کی وجہ سے دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فی الحال یہ زیادہ تشویشناک نہیں تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ مذاکرات شروع بھی ہوتے ہیں یا نہیں۔

’ایک تو اشرف غنی پر داخلی فشار ہے کیونکہ کچھ لوگ مذاکراتی عمل کو آگے نہیں بڑھنے دینا چاہتے۔ دوسرے یہ کہ اشرف غنی پاکستان اور طالبان دونوں کو سخت پیغام دینا چاہتے ہیں۔‘

پاکستان میں قومی سلامتی کے سابق مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد علی درانی کہتے ہیں کہ کابل حملوں سے قبل بھی اشرف غنی پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے مخالفین کی جانب سے بہت دباؤ تھا اور موجودہ صورت حال دونوں ملکوں کے لیے خوش آئند نہیں ہے۔

’میرا نہیں خیال کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان غیر مستحکم ہو، پاکستان دہشت گردی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن کچھ چیزیں شاید پاکستان کے کنٹرول میں نہ ہوں لیکن مجھے اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ پاکستان افغانستان کت مکمل حمایت کرتا ہے۔‘

’پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی پناہ گاہیں اب بھی موجود ہیں

پاکستان میں اب بھی دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، یہ الزامات پاکستان پر ایسے وقت میں لگائے جا رہے ہیں جب پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں میں کمی دکھائی دے رہی ہے اور امریکہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک آپریشن ضربِ عضب میں کامیابیوں کو تسلیم کر رہے ہیں۔

لیکن کیا پاکستان کی حکومت اور فوج ان حالیہ الزامات پر مفاہمتی رویہ اپنائے گی یا پھر مذاکرات کے لیے ثالثی چھوڑ کر سخت پیغام دے گی؟

بریگیڈئیر (ر) سعد محمد کہتے ہیں کہ پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو معلوم ہے کہ اگر افعانستان میں کوئی پاکستان کا دوست ہے تو وہ صرف اشرف غنی ہے وہ سیاست کم کرتے ہیں اور ٹیکنوکریٹ زیادہ ہیں۔

’پاکستان اس کو اور زیادہ ہوا نہیں دے گا، پاکستان کو پتہ ہے کہ اشرف غنی کن حالات میں کام کر رہے ہیں۔‘

مذاکرات میں تعطل

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption ملا عمر کی ہلاکت کے بعد افغان طالبان سے مذاکرات میں تعطل پیدا ہو گیا ہے

حکومتِ پاکستان کی کوششوں سے سات جولائی کو افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور ہوا لیکن اب یہ مذاکراتی عمل کھٹائی میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

بی بی سی پشتو کے نامہ نگار طاہر خان کہتے ہیں کہ طالبان فی الحال بات چیت کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتے۔

’طالبان کے ایک رہنما نے کہا ہے کہ کچھ مہینے لگ سکتے ہیں۔ طالبان کا ابھی جومزاج بن رہا ہے وہ براہ راست مذاکرات کے حامی نہیں ہیں۔ ان کی یہ بھی خواہش ہے کہ پاکستان کے تھرو مذاکرات نہ ہوں ‘

ادھر طالبان میں تفرقے کے خاتمے کے لیے کوشاں علما کونسل کے سربراہ ملا احمد کی بھی ملا منصور سے ملاقات نہیں ہوپائی۔

لیفٹینٹ جنرل (ر) محمد علی درانی کہتے ہیں پاکستان کے آرمی چیف نے حالیہ کورکمانڈر کانفرنس میں جو بیان دیا وہ اہم تھا کہ ’افغانستان کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہو سکتا ہے۔‘

پاکستانی ماہرین اس بات سے بھی متفق ہیں کہ ملا منصور کی جانب سے مذاکرات کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دینے کی وجہ ان طالبان کی حمایت حاصل کرنا ہو سکتا ہے جو مذاکرات کے خلاف ہیں۔

لیکن افغانسان میں پاکستان کے مفاہمتی کردار پر شک کیا جا رہا ہے۔ قومی سلامتی ادارے این ڈی ایس کے سابق سربراہ امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ جب پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی سرتاج عزیز نے اپنے بیان میں یہ کہا کہ ’جیسے ہی وہ اپنے امیر کے حوالے سے مسائل حل کر لیتے ہیں، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان طالبان کی قیادت کی پاکستان میں موجودگی اور منصوبہ بندی سےاچھی طرح آگاہ ہے۔‘

ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ’افغان عوام کا قتل عام بھی پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی مشاورت اور منظوری سے ہو رہا ہے۔‘

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے افغان صدر کو یقین دلایا ہے کہ وہ جمعرات کو افغان وفد سے ملاقات سے قبل ایک تفصیلی منصوبہ تیار کرنے کے لیے اپنی حکومت کو ہدایت کریں گے۔

لیکن یہ منصوبہ افغان قیادت کے لیے کس قدر قابلِ قبول ہوگا اور کیا پاکستان دہشت گردی کے خلاف اقدامات سمیت مصالحتی عمل کو مکمل کر کےحقیقی معنوں میں خود پر لگے الزامات کو دھو پائے گا؟

اسی بارے میں