کوئٹہ میں بم دھماکہ، پولیس اہلکار ہلاک، چار تشدد زدہ لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والوں میں سے چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بر آمد کی گئیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بم دھماکے اور تشدد کے دیگر واقعات میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بر آمد کی گئیں۔

منگل کی شام کوئٹہ شہر کی گوالمنڈی چوک پر ایک بم دھماکہ ہوا۔

گوالمنڈی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے گوالمنڈی چوک پر دو دکانوں کے درمیان خالی جگہ میں دھماکہ خیز مواد رکھا تھا۔لوگوں نے مشکوک سمجھتےہوئے پولیس کو اطلاع دی۔

انھوں نے بتایا کہ جب ایک پولیس اہلکار نے مشکوک دھماکہ خیز مواد کو اٹھانے کی کوشش کی تو یہ زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔ جس کے نتیجے میں پولیس کا ایک اہلکار ہلاک اور چھ افراد زخمی ہوگئے۔

منگل کو برآمد ہونے والی چار تشدد زدہ لاشوں میں سے تین کوئٹہ سے متصل ضلع پشین کے علاقے سرانان سے بر آمد کی گئیں۔ پشین انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تینوں افراد کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشیں سرانان کے علاقے میں پھینک دی گئی تھیں۔

اہلکار کے مطابق ان افراد کے گلے پر رسی کے نشانات کے علاوہ انھیں گولیاں بھی ماری گئی تھیں۔ تنیوں افراد کی عمریں 30 سے 40 سال کے درمیان ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ ہلاک کیے جانے والے افراد شکل و شباہت سے افغانی معلوم ہوتے ہیں۔ ایک اور تشدد زدہ لاش ایران سے متصل ضلع کیچ کے علاقے ڈانڈار سے برآمد کی گئی۔ ڈانڈار سے ملنے والی لاش 20 سالہ نوجوان کی تھی۔

ان چاروں افراد کی ہلاکت کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے ہیں ۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی بالخصوص 2007 سے تشدد زدہ لاشوں کے ملنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق گذشتہ دنوں سینٹ کی انسانی حقوق سے متعلق قائمہ کمیٹی کو صوبائی محکمۂ داخلہ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ 2010 سے جون 2015 تک برآمد ہونے والی لاشوں کی تعداد 853 تھی۔

اسی بارے میں