’جنسی زیادتی نہ ہوئی، مداری کا کوئی کھیل ہوگیا‘

Image caption غریب دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ ملزمان نے گذشتہ چند سالوں میں اُن سے لاکھوں روپے اور سامان ہتھیایا

صوبہ پنجاب کے شہر قصور کا ایک چھوٹا سا غیر معروف گاؤں حسین خان والا ان دنوں ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

یہ توجہ کسی قابلِ فخر وجہ سے نہیں بلکہ مبینہ جنسی زیادتی کا وہ سکینڈل ہے جس میں مقامی بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

قصور میں سرحدی چیک پوسٹ سے چند سو میٹر پہلے ایک چھوٹی اور ٹوٹی پھوٹی سڑک گاؤں کے اندر جاتی ہے جس کے دونوں طرف بانس کے جنگلات ہیں۔

گاؤں میں داخل ہوئے تو مقامی میڈیا کی چند گاڑیاں اور 60 کے قریب افراد موجود تھے لیکن دیکھتے ہی دیکھتے میڈیا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد گاؤں کے مرکز میں جمع ہوگئی۔

موقع پر موجود صحافیوں سے ابتدائی معلومات لینا شروع کیں تو دماغ چکرا کر رہ گیا۔ ہر کسی کے پاس بچوں کے ساتھ زیادتی کے بارے میں الگ الگ کہانی تھی، لیکن کوئی بھی ایسا نہیں ملا جس کے پاس تصدیق شدہ معلومات ہو۔ سب اپنی معلومات کے درست ہونے پر بضد تھے۔

ایسا نہیں ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی یا کہانی سرے سے ہی من گھڑت تھی، زیادتی تو ہوئی، لیکن کتنوں کے ساتھ اور کب سے؟ اس سوال کا کوئی ایک جواب نہیں تھا۔ نہ مقامی لوگوں کے پاس اور نہ ہی بریکنگ نیوز دینے والے صحافیوں کے پاس۔

Image caption مقامی پولیس حسین والا کے دیہاتیوں کے اس دعوے کی تصدیق کرتی دکھائی نہیں دیتی کہ انھوں نے ملزمان کے گھر والوں سے شکایت کی تو انھیں مار پیٹ کر نکال دیا گیا

اسی ہجوم میں کھڑے مقامی لوگوں میں سے چند صحافیوں کو بلا بلا کر یہ ویڈیوز بلیو ٹوتھ کے ذریعے موبائل میں منتقل کرتے بھی دکھائی دیے۔

گاؤں میں موجود لوگوں سے بات شروع کی تو معلوم ہوا کہ ہر کوئی جنسی زیادتی کے واقعات کے بارے میں برسوں سے جانتا تھا اور بظاہر سب کو معلوم تھا کہ اِن کے گاؤں میں بچوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

تو پھر اتنے طویل عرصے تک خاموشی کیوں؟ یہ واقعات چند ماہ پرانے تو نہیں اور چند بچوں کے ساتھ تو نہیں ہوئے کیوں کہ گاؤں والوں کے بقول مقامی میڈیا پر آنے والا 280 بچوں سے جنسی زیادتی کا ہندسہ بالکل ٹھیک ہے۔

اِس سوال کے جواب میں کوئی کہتا کہ ملزمان بہت بااثر ہیں تو کسی کا کہنا تھا اُن کے پولیس سے تعلقات ہیں اور کوئی اُن کے سیاسی تعلقات کا حوالہ دیتا دکھائی دیا۔

گاؤں کی ایک تنگ گلی میں واقع چھوٹے سےگھر کی بیٹھک کے دروازے پر لوگوں کی بھیڑ تھی۔ یہ ایک متاثرہ بچے کا گھر ہے اور ہمیں یہ کہہ کر انتظار کرنے کو کہا جاتا ہے کہ ابھی کوئی اور میڈیا والے انٹرویو کر رہے ہیں۔

اتنے میں ایک شخص مکان سے فون پر بات کرتا ہوا نمودار ہوتا ہے، جس میں وہ کسی سرکاری کارندے کو یہ کہہ کر منع کرتا ہے کہ کوئی بھی متاثرہ خاندان قصور نہیں آئے گا، وزیراعلیٰ نے آنا ہے تو حسین خان والا آ جائیں۔ بعد میں اس شخص نے اپنا نام مبین غزنوی بتایا اور یہ وہی شخص ہیں جو اس معاملے میں اہل علاقہ کی قیادت کر رہے ہیں۔

شدید حبس میں انتظار کرنے کے بعد جب متاثرہ بچے سے انٹرویو کا موقع ملا تو دورانِ بات چیت سفاری سوٹ میں ملبوس ایک اور صاحب نے اس بچے کو نام لے کر آواز دی اور ہماری جانب سے انتظار کا اشارہ نظر انداز کر کے وہ بچے کو کاندھے سے پکڑ کر یہ کہتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے کہ ’تم وہی کچھ کرو گے جو تمھیں میں کہوں گا۔‘

اس صورتحال میں ہم یہ سوچتے رہ گئے کہ یہ ماجرا کیا ہے، یہ سب ہو کیا رہا ہے؟

Image caption گاؤں والوں کے بقول مقامی میڈیا پر آنے والا کا 280 بچوں سے جنسی زیادتی کا ہندسہ بالکل ٹھیک ہے

حسین والا میں اس بچے کے علاوہ تین ایسے بچوں سے بھی بات ہوئی جو کہ مبینہ طور جنسی زیادتی کا شکار ہوئے تھےاور اِن کے مطابق ملزمان اُنھیں زبردستی اُٹھا کر لے گئے، بیہوش کیا اور پھر جنسی زیادتی کی ویڈیو بنائی۔

دو بچوں کے بقول اُنھیں چھ سال تک زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور ان کے بقول ویڈیو بنانے کے بعد ملزمان اُنھیں کئی برس تک بلیک میل کرتے رہے۔

ایک بچے کے مطابق اُس نے ملزمان کو اپنے گھر سے پانچ تولے سونے کے زیورات چوری کر کے دیے اور اُس کی دو دکانوں سے آٹھ لاکھ روپے کا سامان بھی بلیک میلنگ کی نذر ہو گیا۔

ایک متاثرہ بچے کی ماں کا کہنا ہے کہ اُس کے بچے کی عمر آٹھ سال تھی جب اُس کے ساتھ بدفعلی کا واقعہ پیش آیا اور یہ سلسلہ کئی سال تک چلتا رہا۔ اس خاتون کے مطابق اُس نے تنگ آ کر اپنے بیٹے کو لاہور بھیج دیا لیکن وہ (ملزمان) اُسے وہاں سے بھی اُٹھا کر لے آئے۔

متاثرہ ماں کے بقول وہ چند سال پہلے جب شکایت لے کر ملزمان کے گھر گئی تو اُس کے گھر والوں نے اُسے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا اور پولیس والوں نے بھی اُس کی شکایت درج کرنے کی بجائے اُس کو ڈرایا دھمکایا ۔

گاؤں والوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ جب بھی کوئی فرد شکایت لے کر ملزمان کے والد ، والدہ اور چچاؤں کے پاس جاتا تو وہ اُنھیں نہ صرف برا بھلا کہتے بلکہ گھر سے باہر نکال کر باہرگلی میں مارتے پیٹتے۔

تاہم مقامی پولیس حسین والا کے دیہاتیوں کے اس دعوے کی تصدیق کرتی دکھائی نہیں دیتی۔

تھانہ گنڈا سنگھ والا کے ایک پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ سب جھوٹ ہے اور وہ کون سے ماں باپ اور چچا ہوں گے جو کہ اپنی اولاد کی جانب سے کی جانے والی بدفعلی کی شکایت پر لوگوں کوگالیاں دیں اور مار پیٹ کر گھر سے نکال دیں۔

اس سارے معاملے میں ملزمان کی تعداد 15 جبکہ متاثرہ بچوں کی مبینہ تعداد 280 سے زیادہ بتائی جا رہی ہے جبکہ گاؤں کے ایک فرد کا کہنا ہے کہ اُس کے پاس مبینہ جنسی زیادتی کی 120 سے زیادہ ویڈیوز موجود ہیں۔

معاملات چاہے کچھ بھی رہے ہوں یہ حقیقت ہے کہ اس گاؤں کے بچے سالوں تک جسمانی اور ذہنی اذیت سہتے رہے ہیں لیکن فی الوقت سیاستدان اپنی سیاست چمکانے، میڈیا ریٹنگ بڑھانے اور حکومت گڈ گورننس کے دعوے کرنے میں مگن ہے۔

ایسا لگتا ہے، جیسے ہر کوئی ان معصوم اور مظلوم بچوں کو اپنے اشاروں پر چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بچوں کے ساتھ زیادتی نہ ہوئی، مداری کا کوئی کھیل ہوگیا۔

اسی بارے میں