قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے استعفوں کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے ارکان کی تعداد 24 ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے بدھ کو متحدہ قومی موومنٹ کے 24 اراکین کی طرف سے موصول ہونے والے استعفوں کی تصدیق کر کے ان پر ضابطے کی کارروائی کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

ادھر سندھ اسمبلی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں سپیکر کی جانب سے تاحال استعفوں کی تصدیق کا عمل شروع نہیں کیا گیا ہے۔

کراچی میں آپریشن اور ایم کیو ایم کا احتجاج: خصوصی ضمیمہ

ایم کیو ایم نے بدھ کوپہلے سندھ اسمبلی اور پھر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنے استعفے متعلقہ حکام کو پیش کیے ہیں۔

قومی اسمبلی کے ذرائع نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ قومی اسمبلی میں موجود ایم کیو ایم کے اراکین نے آئین کے آرٹیکل 64 کی شق ایک کے تحت اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے استعفے رضاکارانہ طور پر سپیکر ایاز صادق کو جمع کرائے۔

قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں شق 34 کے تحت استعفے موصول ہونے کے بعد سپیکر کو یہ تصدیق کرنا ہوتی ہے کہ استعفے رضاکارانہ طور پر کسی دباؤ کے بغیر دیے گئے ہیں اور انھیں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ یہ استعفے ہاتھ سے تحریر کیے ہوئے ہیں یا نہیں۔

سپیکر ایاز صادق نے متحدہ کے اراکین سے فرداً فرداً یہ استعفے وصول کیے اور ہر ایک رکن سے قواعد کے مطابق یہ سوال پوچھا کہ وہ استعفیٰ اپنی منشا اور بغیر کسی دباؤ کے دے رہے ہیں۔

سپیکر نے استعفوں کی تصدیق کا عمل مکمل کرنے کے بعد تمام استعفوں کو ایوان کی لیگل برانچ کو نوٹیفیکیشن جاری کرنے کے لیے بھیج دیا۔

لیگل برانچ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کے بعد انھیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھیج دے گی۔

الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کی طرف سے نوٹیفیکیشن موصول ہونے کے بعد قومی اسمبلی کی ان نشستوں کے خالی ہونے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے گا۔

ادھر سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسمبلی کے سپیکر آغا سراج درانی نے ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی کے استعفے فوری طور پر منظور نہیں کیے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے کُل 51 ارکان اسمبلی میں سے 41 نے خود پیش ہوکے استعفے دیے جبکہ باقی دس کے استعفے فیکس کے ذریعے موصول ہوئے ہیں۔

سپیکر آغا سراج درانی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایم کیو ایم کے ارکان سے درخواست کریں گے کہ وہ استعفے واپس لے لیں۔

انھوں نے کہا کہ استعفے واپس نہ لینے کی صورت میں وہ رولز آف پروسیجر پر عمل کریں گے اور تمام ارکان کو ایک ایک کرکے اپنے چیمبر میں بلاک ان کے استعفوں کی تصدیق کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ کہیں ارکان نے یہ استعفے دباؤ میں آکر تو نہیں دیے۔

قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے ذرائع کے مطابق متحدہ کے تمام اراکین استعفے دینے کے موقعے پر خوشگوار موڈ میں نظر آ رہے تھے۔

سپیکر ایاز صادق کی طرف سے اس سوال پر کہ وہ کسی دباؤ یا پریشر کا شکار تو نہیں ہے اُن کا کہنا تھا کہ وہ کسی پریشر میں نہیں ہیں سوائے ’بلڈ پریشر‘ کے۔ متحدہ کے کئی اراکین نےسپیکر کے کمرے میں اپنی تصویریں یا ’سیلفیاں‘ بناتے رہے۔

اس موقعے پر متحدہ کے ایک رکن نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ متحدہ اب کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی تحریک کا آغاز کرے گی۔

قومی اسمبلی میں استعفے دینے سے قبل ایوانِ زیریں میں متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی رہنما فاروق ستار نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ اُن کی جماعت کے 40 سے زیادہ کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا جبکہ گذشتہ 8 ماہ کے دوران 200 کارکنان کو رینجرز اور پولیس نے گرفتار کیا ہے لیکن آج تک اُنھیں عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کے بارے میں وزیر اعظم نے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا جو اس ’ماورائے عدالت اقدام‘ اور اس آپریشن کے بارے میں سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرے گی لیکن آج تک اس کمیٹی کی تشکیل عمل میں نہیں لائی گئی۔

انھوں نے کہا کہ اُنھیں عدالتوں سے بھی انصاف نہیں ملا اور فوج کے سربراہ اور کراچی کے کورکمانڈر نے بھی انھیں ملاقات کے لیے وقت نہیں دیا اور ایسے حالات میں اُن کی جماعت کے پاس مستعفی ہونے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کا میڈیا ٹرائل کیا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے ایم کیو ایم کا ہاتھ ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے یہ بھی کہا کہ فوج سے متعلق بیان دینے پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی عائد کر دی گئی جو کہ اظہار رائے کی خلاف ورزی ہے جبکہ اس سے سخت الفاظ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور جماعت اسلامی کے سابق امیر منور حسن نے ادا کیے تھے لیکن اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

ایم کیو ایم کی جانب سے استعفے دیے جانے پر تاحال وفاقی یا صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں